موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مودی حکومت نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس کیا طلب، 18 سے 22 ستمبر کے درمیان ہوں گی 5 نشستیں

نئی دہلی: مرکز کی مودی حکومت نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے۔ یہ اجلاس 18 سے 22 ستمبر تک جاری رہے گا۔ رپورٹ کے مطابق اس اجلاس کے دوران 5 نشتیں ہوں گی۔ یہ 17ویں لوک سبھا کا 13واں اور راجیہ سبھا کا 261واں اجلاس ہوگا۔ حکومت نے تاحال اس اجلاس کو طلب کرنے کا کوئی ایجنڈا ظاہر نہیں کیا ہے۔

خیال رہے کہ آئین کے آرٹیکل 85 میں پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرنے کا التزام ہے۔ اس کے تحت حکومت کو پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا حق حاصل ہے۔ پارلیمانی امور کی کابینہ کمیٹی فیصلے کرتی ہے جن کی ترتیب صدر کے ذریعہ دی جاتی ہے، جس کے ذریعے ارکان پارلیمنٹ (اراکین پارلیمنٹ) کو اجلاس میں مدعو کیا جاتا ہے۔

اس سے قبل پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی سے 11 اگست تک ہوا تھا، جس کے دورانن نمنی پور تشدد پر کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ اپوزیشن منی پور پر پی ایم مودی کے بیان پر بحث پر بضد تھی، جب کہ حکومت وزیر داخلہ امت شاہ کے جواب پر بحث پر اصرار کر رہی تھی۔ اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان زبردست ہنگامہ ہوا تھا۔

اس کے بعد کانگریس نے منی پور معاملے پر لوک سبھا میں مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔ اس دوران راہل گاندھی نے منی پور تشدد کا ذکر کرتے ہوئے مودی حکومت پر سخت حملہ بولا تھا۔ جبکہ وزیر اعظم مودی نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کا جواب دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن کی تحریک نامنظور ہو گئی تھی۔

یاد رہے کہ منی پور میں 3 مئی سے تشدد جاری ہے، جس میں اب تک 160 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تشدد کی آگ میں 10 ہزار گھر جل کر خاکستر ہو گئے ہیں۔ جبکہ 50 ہزار سے زائد لوگ ریلیف کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔