موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

آسام میں سیلاب کی صورت حال سنگین، 3.4 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر

گوہاٹی: آسام میں دریائے برہماپوتر اور دیگر اہم دریاؤں کی آبی سطح میں اضافہ کے سبب سیلاب کی صورت حال مزید سنگین ہو گئی ہے اور ریاست کے 22 اضلاع میں 3 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ عہدیداروں نے جمعرات کو یہ معلومات دی۔

آسام ریاستی آفت انتظامی اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ماجولی سب سے زیاد بحران کا شکار ضلع ہے، جہاں 65 ہزار سے زیادہ افراد کو سیابی صورت حال کا سامنا ہے۔ اس کے بعد گولپارہ اور موری گاؤں اضلاع میں سیلابی صورت حال نظر آ رہی ہے۔

مجموعی طور پر 1308 افراد نے 153 راحتی کیمپوں میں پناہ لی ہے، جبکہ ضلع انتظامیہ 150 مراکز کے ذریعے راحت فراہم کر رہی ہے۔ محکمہ جنگلات کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق اورنگ نیشنل پارک اور ٹائیگر ریزرو کے 44 کیمپ گراؤنڈ میں سے 13 اور پوتی بورا جنگلی حیات سینکٹوری کے 10 کیمپ گراؤنڈ زیر آب آ گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق درانگ، دھبری، گولاگھاٹ، جوراہاٹ، کامروپ میٹرو، کریم گنج، ماجولی، موری گاؤں اور اودل گری اضلاع میں 33 سڑکیں تباہ ہو گئی ہیں۔ درانگ میں ایک بند ٹوٹ گیا ہے، جبکہ اودل گری میں دوسرے بند کو نقصان پہنچا ہے۔

بارپیٹا، بسوناتھ، بونگائی گاؤں، ڈبروگڑھ، ماجولی، نلباڑی، سونت پور، تنسوکیا اور اودل گری میں بڑے پیانے پر کٹان ہوا ہے۔ تاہم سیاب کے نتیجہ میں کسی جانی نقصان کا حالیہ واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔