بدھ, اپریل 1, 2026

چارہ گھوٹالہ معاملے میں عدالت نے سنایا اپنا فیصلہ، 35 ملزمین بری اور 52 قصورواروں کو ملی 3 سال قید کی سزا

Share

ڈورنڈا ٹریزری سے جڑے چارہ گھوٹالہ معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے آج اپنا فیصلہ سنا دیا۔ سی بی آئی کے اسپیشل جج وشال شریواستو کی عدالت نے یہ فیصلہ سنایا جس میں 125 ملزمین میں سے 35 کو بری کر دیا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق 52 کو قصوروار قرار دیتے ہوئے 3 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ باقی ملزمین پر فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔

واضح رہے کہ بہار (جب جھارکھنڈ نہیں بنا تھا) میں جب چارہ گھوٹالہ ہوا تھا تو اس وقت ریاست کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو ہوا کرتے تھے۔ اس دران ڈورنڈا ٹریزری سے 36 کروڑ 59 لاکھ روپے ناجائز طریقے سے نکالے گئے تھے۔ یہ معاملہ 1990 سے 1995 کے دوران پیش آیا تھا۔ اس تعلق سے سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج وشال شریواستو کی عدالت میں بحث پوری ہو چکی ہے اور آج 87 (35 کو بری کیا گیا اور 52 کو 3 سال کی سزا ملی) ملزمین کے بارے میں فیصلہ سنا دیا گیا۔

دورنڈا ٹریزری معاملے میں 27 سال تک چلی سماعت کے دوران سی بی آئی کے اسپیشل پبلک پرازیکیوٹر روی شنکر نے مجموعی طور پر 616 گواہوں کا بیان درج کرایا ہے۔ اس معاملے میں اُس وقت کے سپلائر اور سابق رکن اسمبلی گلشن لال آجمانی سمیت 125 ملزمین نے ٹرائل کا سامنا کیا۔ ٹرائل کے دوران 62 ملزمین کا انتال ہو چکا ہے۔ اس معاملے میں سی بی آئی نے مجموعی طور پر 192 ملزمین کے خلاف کیس درج کیا تھا۔ ان ملزمین میں سے 38 پبلک سرونٹس رہے ہیں، جن میں سے 8 ٹریزری کے افسر ہیں۔ 86 سپلائر معاملے میں ملزم ہیں۔ ملزمین میں 16 خواتین بھی شامل ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملزمین میں سب سے عمر دراز 90 سالہ ضلع مویشی پروری افسر ڈاکٹر گوری شنکر پرساد بھی شامل ہیں۔ ان میں 12 سے زیادہ ایسے لوگ بھی ہیں جن کی عمر 80 سال یا اس سے زیادہ ہے۔

Read more

Local News