موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ہریانہ: وزیر سندیپ سنگھ کے خلاف جنسی ہراسانی کا مقدمہ درج کرانے والی خاتون کوچ معطل

چنڈی گڑھ: ہریانہ حکومت میں وزیر سندیپ سنگھ کے خلاف جنسی ہراسانی کا مقدمہ درج کرنے والی جونیئر خاتون کوچ کو معطل کر دیا گیا ہے۔ محکمہ کھیل کے ڈائریکٹر یاشندر سنگھ نے معطلی کا حکم جاری کیا ہے۔ خاتون کوچ کا دعویٰ ہے کہ حکام اس پر مسلسل دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ اس معاملے میں وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کا نام نہ گھسیٹے۔ اپنا موقف پیش کرتے ہوئے خاتون کوچ نے کہا کہ محکمہ کھیل نے یہ حکم 11 اگست 2023 کو جاری کیا تھا لیکن محکمہ کے ملازمین تک اسے پیر کی رات تک پہنچایا گیا۔ کوچ نے مزید کہا کہ انہیں بغیر کسی وارننگ کے معطل کر دیا گیا ہے اور حکام نے بھی معطلی کے حکم کی کوئی تسلی بخش وجہ نہیں بتائی۔

جونیئر خاتون کوچ نے بتایا کہ محکمہ کھیل کے حکام نے گزشتہ 4 ماہ سے ان کی اسٹیڈیم میں کوچنگ پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس کی وجہ سے ان کا اسپورٹس کیریئر مکمل طور پر تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال 26 دسمبر کو جونیئر خاتون کوچ نے اس وقت کے وزیر کھیل سردار سندیپ سنگھ پر چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا تھا۔ اس کے تین دن بعد انہوں نے اس معاملے کی شکایت چنڈی گڑھ پولیس سے کی تھی۔ وہیں، 31 دسمبر کو پولیس نے وزیر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد وزیر کھیل سندیپ سنگھ سے کھیل کا محکمہ چھین لیا گیا۔ چنڈی گڑھ پولیس کیس درج ہونے کے سات ماہ بعد بھی اس معاملے میں چارج شیٹ داخل نہیں کر پائی ہے۔

ہریانہ حکومت کے وزیر سندیپ سنگھ اب تک اپنے اوپر لگائے گئے جنسی استحصال کے الزامات کو ‘جھوٹا اور بے بنیاد’ قرار دیتے رہے ہیں۔ تاہم، جب چنڈی گڑھ پولیس نے اس معاملے میں سندیپ کا پولی گراف ٹیسٹ کرانے کی اجازت مانگی تو انہوں نے رضامندی دینے سے انکار کر دیا۔ جب سندیپ کے وکیل سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ٹیسٹ سے انکار کیوں کیا؟ تو جواب میں انہوں نے کہا کہ پولی گرافی ٹیسٹ سے ثبوت حاصل نہیں ہوتے بلکہ اس سے صرف تناؤ کا پتہ لگایا جاتا ہے، جواب کی تصدیق نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد صرف تحقیقات میں تاخیر اور سندیپ سنگھ کو ہراساں کرنا ہے۔