موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

دہلی والوں کو جمہوری حقوق واپس دلاؤں گا: کیجریوال

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت پر دہلی کے لوگوں کے حقوق چھیننے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے جمہوری حقوق واپس دلانے کا یقین دلایا۔

مسٹر کیجریوال نے منگل کو چھترسال اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرایا اور مرکزی حکومت کی طرف سے چھینے گئے دہلی کے لوگوں کے جمہوری حقوق کو بحال کرنے کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے آرڈیننس لا کر اور پھر قانون بنا کر دہلی کے لوگوں کے حقوق چھین لیے گئے۔ سپریم کورٹ میں یہ لڑائی لڑیں گے اور حقوق واپس دلاکر رہیں گے۔ دہلی کے لوگ فکر نہ کریں، آپ کا مفت بجلی-پانی، مفت اور اچھی تعلیم-صحت اور خواتین کے لیے مفت بس سفر جاری رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان صرف تقریر کرنے سے وشو گرو نہیں بنے گا۔ اگر ہندوستان کو عالمی گرو بنانا ہے تو ملک کے ہر طبقے کو مفت تعلیم، صحت، بجلی اور پانی کا انتظام کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ دن پہلے دہلی میں شدید سیلاب آیا تھا۔ دہلی کی تاریخ میں پہلی بار جمنا کے پانی کی سطح بہت بڑھ گئی تھی۔ دہلی کے تمام لوگوں نے دہلی حکومت کے ساتھ مرکزی حکومت کی مدد سے اس آفت کا سامنا کیا اور ہم سب کامیاب رہے۔ کچھ لوگوں کے گھروں کو نقصان پہنچا، ان کا سامان تباہ ہو گیا۔ حکومت کی جانب سے ہم نے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی کوشش کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج یوم آزادی ہے، خوشی کا موقع ہے، لیکن ذہن کے ایک کونے میں ایک چھوٹی سی اداسی ہے اور ذہن بہت پریشان ہے۔ آج ملک کے کچھ حصوں میں ایک بھائی دوسرے بھائی سے لڑ رہا ہے۔ منی پور جل رہا ہے۔ منی پور میں ایک برادری کے لوگ دوسری برادری کے لوگوں سے لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو مار رہے ہیں، گھروں اور دکانوں کو جلا رہے ہیں، خواتین کے ساتھ بدتمیزی کر رہے ہیں۔ دونوں برادریوں کے لوگ پریشان ہیں۔ اب تک جو لوگ مل جل کر امن سے رہتے تھے وہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ یہاں ہریانہ میں بھی دو برادریاں آپس میں لڑ رہی ہیں۔ اس لڑائی میں کسی کمیونٹی کو فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں۔ یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم آپس میں لڑتے رہ گئے۔ اگر ہم آپس میں لڑتے رہیں گے تو ہندوستان وشو گرو کیسے بنے گا؟

انہوں نے کہا کہ ملک کے کئی حصوں میں کئی کئی گھنٹے بجلی نہیں آتی ہے۔ دنیا کا کوئی ایسا ترقی یافتہ ملک نہیں جہاں عوام کو 24 گھنٹے بجلی نہ ملتی ہو۔ جب تک ملک میں سات آٹھ گھنٹے بجلی کی کٹوتی رہے گی، ہمارا ملک کبھی وشو گرو نہیں بن سکتا۔ بڑی تقریریں ہو سکتی ہیں۔ 24 گھنٹے بجلی نہیں ہوگی تو صنعت کیسے ترقی کرے گی، کسان کیسے بوائی کرے گا۔ اگر ہمیں وشو گرو بننا ہے ملک بھر میں 24 گھنٹے بجلی کا انتظام کرنا ہوگا۔