جمعہ, اپریل 3, 2026

منی پور میں تب تک امن کی بحالی ممکن نہیں جب تک لوٹے گئے اسلحے برآمد نہیں ہو جاتے: گورو گگوئی

Share

منی پور میں امن کی بحالی کے لیے حکومت کے ذریعہ لگاتار کوششیں ہو رہی ہیں، لیکن اب تک کامیابی نہیں ملی ہے۔ جیسے ہی لگتا ہے کہ ریاست میں کشیدگی کم ہو رہی ہے، ویسے ہی تشدد کی نئی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ گورو گگوئی نے بدھ کے روز موجودہ حالات پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب تک لوٹے گئے 6 ہزار اسلحے برآمد نہیں ہو جاتے، تب تک منی پور میں امن کی بحالی ممکن نہیں ہے۔‘‘

گورو گگوئی کا کہنا ہے کہ منی پور میں لوٹے گئے چھ ہزار جدید اسلحے اور چھ لاکھ راؤنڈ گولہ بارود برآمد ہونے تک امن کی بحالی نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یہ بیان دیا اور کہا کہ ریاست میں 3 مئی سے تشدد جاری ہے۔ یہاں سیکورٹی فورسز سے اسلحے اور گولہ بارود لوٹے گئے ہیں، اب ان اسلحوں کا استعمال ریاست کے عام لوگوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ گورو گگوئی نے یہ بھی کہا کہ جب دونوں فریقین کے درمیان صلح پر کوئی بات چیت ہی نہیں ہوئی ہے تو پھر ریاست میں امن کی بحالی کیسے ہوگی!

اس درمیان کانگریس رکن پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا کہ میتئی اور کوکی دونوں ہی طبقہ وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ سے ناخوش ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں وزیر اعلیٰ کی پوری حمایت کی۔ سچ تو یہ ہے کہ امن کمیٹیوں میں وزیر اعلیٰ کی موجودگی کے سبب امن مذاکرہ ناکام ہو گیا ہے۔

کالیابور سے رکن پارلیمنٹ گگوئی نے منی پور معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو ان کے 15 اگست کے خطاب کے لیے بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’پی ایم مودی نے لال قلعہ سے ملک کو گمراہ کیا ہے۔ جب تک 6 ہزار اسلحے برآمد نہیں ہو جاتے، تب تک ریاست میں امن کی بحالی نہیں ہو سکتی۔‘‘

Read more

Local News