جمعرات, مارچ 19, 2026

توہین مذہب کی اجازت دینے پر سویڈن کے خلاف ترکیہ کا شدید ردعمل

Share

وزارت خارجہ نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں سویڈن کے سفیر کو ہفتے کے روز اسٹاک ہوم میں ترکی کے سفارت خانے کے سامنے قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے مذموم مظاہرے کی ملک کی اجازت پر طلب کیا

انقرہ: سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں توہین مذہب کی اجازت دینے پر ترکیہ نے شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سویڈن کے سفیر کو طلب کر لیا۔

ترک میڈیا کے مطابق جمعہ کو وزارت خارجہ نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں سویڈن کے سفیر کو ہفتے کے روز اسٹاک ہوم میں ترکی کے سفارت خانے کے سامنے قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے مذموم مظاہرے کی ملک کی اجازت پر طلب کیا۔

سفیر اسٹافن ہیرسٹروم کو بتایا گیا کہ ترکی اس اشتعال انگیز عمل کی شدید مذمت کرتا ہے، جو کہ ہیٹ اسپیچ تقریر کے مترادف ہے، اور اسٹاک ہوم کا مؤقف ناقابل قبول ہے۔

ترکیہ کی حکومت نے کہا کہ سزا یافتہ نسل پرست راسموس پالوڈن مسلم مخالف جذبات رکھتا ہے، اور انقرہ اشتعال انگیز عمل کی مذمت کرتا ہے، جو واضح نفرت انگیز جرم ہے۔

ترکیہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی اجازت دینے پر سویڈن کا رویہ ناقابل قبول ہے، توقع ہے کہ سویڈن حکومت ایسے اقدامات کو روکے گی اور اجازت واپس لے گی۔

ترکیہ حکومت کا مؤقف تھا کہ جمہوری حقوق کی آڑ میں مقدس اقدار کی توہین کا دفاع نہیں کیا جا سکتا، واضح رہے کہ ترکیہ اور سویڈن کے درمیان نیٹو میں شمولیت سے متعلق اختلافات چل رہے ہیں۔

Read more

Local News