موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کساد بازاری کے خطرے کے باعث اسٹاک مارکیٹ گر گئی

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 187.31 پوائنٹس یا 0.31 فیصد گر کر 61 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے 60858.43 پوائنٹس پر آگیا

ممبئی: امریکی صارفین کی مانگ کے کمزور اعداد و شمار پر دنیا میں ایک بار پھر مندی کا خطرہ منڈلانے کے خدشے کے پیش نظر عالمی بازار کے غوطہ لگانے سے سرمایہ کاروں کی مقامی سطح پر یوٹیلٹیز، پاور سی ڈیز، انرجی اور ایف ایم سی جی سمیت بارہ گروپوں میں فروخت سے شیئر بازار کی گزشتہ مسلسل دو دنوں کی تیزی آج تھم گئی۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 187.31 پوائنٹس یا 0.31 فیصد گر کر 61 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے 60858.43 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 57.50 پوائنٹس یا 0.32 فیصد گر کر 18710 پوائنٹ پر آگیا۔

اس دوران بڑی کمپنیوں کی طرح درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں میں بھی فروخت ہوئیں۔ اس کی وجہ سے بی ایس ای مڈ کیپ 0.06 فیصد گر کر 25,171.93 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.24 فیصد گر کر 28,773.27 پوائنٹس پر آگیا۔ بی ایس ای پر کل 3626 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا جن میں سے 1927 فروخت ہوئے 1585 خریدے گئے جبکہ 114 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

اسی طرح این ایس ای میں 34 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی، جبکہ 15 میں تیزی آئی جبکہ ایک میں استحکام رہا۔
بی ایس ای میں 12 گروپس میں کمی درج کی گئی۔ اس عرصے کے دوران یوٹیلٹیز 1.23، پاور 1.02، کموڈٹیز 0.41، سی ڈی 0.69، انرجی 0.69، ایف ایم سی جی 0.83، فنانشل سروسز 0.11، ہیلتھ کیئر 0.37، ٹیلی کام 0.64، آٹو 0.49، بینکنگ 0.380 فیصد اور باقی گروپ میں 0.35 فیصد کمی ہوئی۔

عالمی سطح پر گراوٹ کا رجحان رہا۔ اس عرصے کے دوران برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.65، جرمنی کا ڈیکس 0.88، جاپان کا نکئ 1.44 اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.12 فیصد گرا جبکہ چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.49 فیصد بڑھ گیا۔