موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کھڑگے کی قیادت میں کانگریس کو ہماچل پردیش میں ملی پہلی جیت: بھوپیش

ملک ارجن کھڑگے کے کانگریس صدر بننے کے بعد ہماچل پردیش میں پہلی جیت آنے والے وقت میں پارٹی کو نئی توانائی دینے میں مددگار ثابت ہوگی

رائے پور: چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے کہا کہ مسٹر ملک ارجن کھڑگے کے کانگریس صدر بننے کے بعد ہماچل پردیش میں پہلی جیت آنے والے وقت میں پارٹی کو نئی توانائی دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔

کانگریس کے ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات کے چیف آبزرور مسٹر بگھیل نے یہاں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے دھواں دار مہم چلائی اور ہماچل پردیش کے لوگوں نے ان کی طرف سے دی گئی 10 ضمانتوں پر بھروسہ کیا۔ اس جیت میں ہماچل کے لوگوں کے ساتھ ساتھ پارٹی کارکنان بشمول ایم پی راجیو شکلا، تمام قومی سکریٹریوں، ریاستی پارٹی لیڈروں اور عہدیداروں نے دن رات اپنا حصہ ڈالا ہے۔

گجرات میں چونکا دینے والے نتائج

انہوں نے کہا کہ پارٹی کو واضح اکثریت مل گئی ہے۔ اب لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ جلد ہوگی اس میں اراکین اسمبلی سے رائے لی جائے گی۔ اس کے بعد اعلی کمان کو اس سے واقف کرایا جائے گا، ریاست میں جلد نئی حکومت بن جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے ہیں۔ مودی کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے بھی بی جے پی کو اتنی سیٹیں نہیں ملیں۔ مسٹر بگھیل نے کہا کہ انہوں نے بھی گجرات میں بھی انتخابی مہم چلائی لیکن یہ صورتحال زمین پر نظر نہیں آئی۔

انہوں نے ریاست کی بھانو پرتاپ پور اسمبلی سیٹ پر جیت کو ریاستی حکومت کے چار سال کے کام پر عوام کی مہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ آنجہانی منوج منڈاوی کے علاقے کے لوگوں کے خاندانی تعلقات نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سیٹ پر بی جے پی نے اپنے چیف الیکشن منیجر کو ذمہ داری سونپی اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ نے ان پر ذاتی حملے کیے، سرو آدیواسی سماج سے بھی مدد کی خبریں ملتی رہیں لیکن اس کے باوجود بی جے پی اپنا ووٹ بینک نہیں بڑھا سکی۔