موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کانگریس کارکنوں کے اعتماد پر پورا اتروں گا: کھرگے

کانگریس کارکنوں کو ان کی امیدوں پر پورا اترنے کا یقین دلاتے ہوئے مسٹر کھرگے نے کہا کہ آپ نے مجھ پر بھروسہ کیا ہے۔ اور ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والے ایک عام کارکن کو کانگریس کا صدر بنایا ہے، میں آپ کے اعتماد پر پورا اتروں گا

نئی دہلی: کانگریس کے نومنتخب صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ وہ جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک لڑیں گے اور کانگریس کارکنوں کے ان پر کئے گئے اعتماد پر پورا اتریں گے۔

پارٹی صدر منتخب ہونے کے بعد مسٹر کھرگے نے بدھ کو اپنی رہائش گاہ پر نامہ نگاروں سے کہا کہ ملک کو کسی ڈکٹیٹر کی خواہشات کے سامنے نہیں چھوڑا جا سکتا، اس لیے سب کو مل کر ان طاقتوں کے خلاف لڑنا ہوگا۔

کانگریس کارکنوں کو ان کی امیدوں پر پورا اترنے کا یقین دلاتے ہوئے مسٹر کھرگے نے کہا کہ آپ نے مجھ پر بھروسہ کیا ہے۔ اور ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والے ایک عام کارکن کو کانگریس کا صدر بنایا ہے، میں آپ کے اعتماد پر پورا اتروں گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کا نام لیے بغیر ان پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہلی میں اقتدار پر بیٹھے حکمران باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن کرتے کچھ نہیں ہیں۔ درحقیقت، ان کے کردار کو چار الفاظ میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے، ـ کھوکھلا چنا باجے گھنا ۔ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی، زبردست بے روزگاری، امیر اور غریب کے درمیان فرق اور ملک میں حکومت کی طرف سے پھیلائی گئی نفرت ہے۔

مسٹر کھرگے نے کہا کہ گزشتہ 75 سالوں میں کانگریس نے آئین کی حفاظت کرتے ہوئے ملک کی جمہوریت کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔ لیکن آج جمہوریت خطرے میں ہے اور آئین پر حملہ ہو رہا ہے، اداروں کو توڑا جا رہا ہے، اس لیے کانگریس کو مضبوط کرنے کی مثال سامنے آئی ہے۔ صدر کے عہدے کے لیے انتخابات کروا کر ملک کی جمہوریت کو مضبوط کرنے کی مثال پیش کی گئی ہے۔