موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سینسیکس-نفٹی 1.5 فیصد سے زیادہ لڑھکے

عالمی مارکیٹ میں جاری گراوٹ کے سبب سہمے سرمایہ کاروں کی مقامی سطح پر ہوئی چوطرفہ فروخت سے گھریلو اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل چوتھے دن بھی افراتفری جاری رہی اور سینسیکس-نفٹی ڈیڑھ فیصد سے زیادہ لڑھک گئے

ممبئی: مہنگائی پر قابو پانے کے لیے پوری دنیا میں بڑھتی ہوئی شرح سود کے دباؤ میں عالمی مارکیٹ میں جاری گراوٹ کے سبب سہمے سرمایہ کاروں کی مقامی سطح پر ہوئی چوطرفہ فروخت سے گھریلو اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل چوتھے دن بھی افراتفری جاری رہی اور سینسیکس-نفٹی ڈیڑھ فیصد سے زیادہ لڑھک گئے۔

بی ایس ای کا تیس حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 953.70 پوائنٹس یعنی 1.64 فیصد کی بڑی گراوٹ کے ساتھ 58 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے اور تقریباً ایک ماہ کی کم ترین سطح 57145.22 پوائنٹس پر آگیا۔ اس سے پہلے یہ 29 اگست کو 57972.62 پوائنٹس پر رہا تھا۔ اسی طرح نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 311.05 پوائنٹس یعنی 1.8 فیصد گر کر 17016.30 پوائنٹس پر رہا۔

بڑی کمپنیوں کی طرح، بی ایس ای کی درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں میں بھی زبردست فروخت ہوئی، جس کی وجہ سے مڈ کیپ 2.84 فیصد گر کر 24552.76 پوائنٹس اور اسمال کیپ 3.33 فیصد گر کر 27853.67 پوائنٹس پر آ گیا۔ اس دوران بی ایس ای پر کل 3707 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 2925 میں کمی جبکہ 660 میں اضافہ ہوا وہیں 122 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای میں 41 کمپنیاں سرخ نشان، جبکہ باقی نو سبز نشان پر رہیں۔

ایک بار پھر شرح سود میں اضافے کی توقع

بے قابو مہنگائی پر لگام لگانے کے لیے امریکہ، برطانیہ، سویڈن اور ناروے میں شرح سود میں ہوئے اضافے کی تعمیل کرتے ہوئے ریزرو بینک کا بھی 28-30 ستمبر کو مجوزہ دو ماہی مانیٹری پالیسی جائزے میں ایک بار پھر سے شرح سود میں اضافے کی توقع ہے۔ ساتھ ہی روپے کی اب تک کی ریکارڈ کم ترین سطح تک پہنچنے کا دباؤ غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ایف آئی آئی) کی مسلسل جاری فروخت کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پچھلے ہفتے ایف آئی آئی نے گھریلو اسٹاک مارکیٹ سے 4361.77 کروڑ روپے نکال لئے۔ اس کا اثر مارکیٹ میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کی وجہ سے بی ایس ای کے تمام 19 گروپس میں فروخت ہوئی۔ اس عرصے کے دوران کموڈٹیز 3.32، سی ڈی 2.60، انرجی 3.17، ایم ایف سی جی2.15، فنانشل سروسز 2.40، ہیلتھ کیئر 1.41، صنعتی 2.58، ٹیلی کام 2.97، یوٹیلٹیز 3.72، آٹو 3.86، بینکنگ 2.29، کیپٹلس گڈس 2.09، دھات 4.50، تیل اورگیس 3.10، پاور 3.71 اور ریئلٹی گروپ کے حصص 4.29 فیصد گر گئے۔

بین الاقوامی سطح پر گراوٹ کا رجحان رہا۔ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.83، جرمنی کا ڈی اے ایکس 0.46، جاپان کا نکئی 2.66، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.44 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 1.20 فیصد کم ہوا۔