موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

نویں اور دسویں کلاس میں ہوئی تمام غیر قانونی تقرریوں کو منسوخ کیا جائے گا: کلکتہ ہائی کورٹ

جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے 9ویں اور 10ویں کلاس کے لئے اساتذہ کی بحالی میں بدعنوانی کی جانچ کررہی سی بی آئی سے سوال کیا ہے کہ اس نے اب تک کتنی غیر قانونی تقرریوں کا انکشاف کیا ہے

کلکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے 9ویں اور 10ویں کلاس کے لئے اساتذہ کی بحالی میں بدعنوانی کی جانچ کررہی سی بی آئی سے سوال کیا ہے کہ اس نے اب تک کتنی غیر قانونی تقرریوں کا انکشاف کیا ہے۔

جسٹس گنگولی نے کہا کہ چوں کہ اس وقت ان دونوں جماعتوں کے لئے حکومت اساتذۃ کی بحالی کرنے کے عمل کا آغاز کردیا ہے۔ ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ سی بی آئی نے اب تک کتنے غیرقانونی طریقے سے نوکری حاصل کرنے والوں کی شناخت کی ہے۔ کمیشن کے کاغذات دیکھ کر کتنے غیر قانونی طریقے سے روزگار لینے والوں کی شناخت ہوئی ہے۔

اسکول سروس کمیشن کے وکیل نے کہا کہ سی بی آئی تحقیقات کر رہی ہے، کئی لوگ حراست میں ہیں اور تفتیش جاری ہے، وہ اصل تعداد بتا سکیں گے۔ جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے جواب دیا کہ سی بی آئی کو فوری طور پر ایک مختصر رپورٹ پیش کرنی چاہئے کہ کتنی غیر قانونی تقرریاں کی گئی ہیں۔ کمیشن کے وکیل نے کہا کہ غیر قانونی بھرتیوں کی اصل تعداد بتانا بہت مشکل ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک یہ کہنا مشکل ہے کہ پردے کے پیچھے کتنی غیر قانونی بھرتیاں ہوئی ہیں۔ میرٹ لسٹ شائع ہوئی، ہائی جمپ لگانے والوں سے پوچھ گچھ کی جائے تو ہی معاملہ واضح ہو گا۔‘‘

عدالت میں 17 غیر قانونی تقرریوں کی شناخت

جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے کہا کہ ویں-دسویں جماعت کے اساتذہ کی تقرری میں عدالت میں 17 غیر قانونی تقرریوں کی شناخت ہوچکی ہے۔ سی بی آئی اور کمیشن دونوں کو 17 غیر قانونی بھرتیوں کے بارے میں اصل معلومات فراہم کرنی چاہئے۔ عدالت نے سی بی آئی اور کمیشن کو 28 ستمبر تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔

عدالت نے کہا کہ تمام دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد غیر قانونی تقرریوں کی تعداد بتائی جائے۔ عدالت اس بنیاد پر تمام غیر قانونی تقرریوں کو منسوخ کر دے گی۔ ہائی کورٹ ان لوگوں کی تقرری کرے گی جو محروم اہلیت کی ویٹنگ لسٹ میں ہیں۔ مدھیہ شکشا پریشد جمعہ (23 ستمبر) تک کلاس IX-X کے لیے کس کی تقرری کی فہرست پیش کرے گی۔