موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

میڈیا عدلیہ کی رپورٹنگ میں محتاط رہیں: دھنکھڑ

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہمیں ججوں کے وقار اور عدلیہ کے احترام کو برقرار رکھنا چاہیے کیونکہ یہ قانون کی حکمرانی اور آئین سازی کے بنیادی اصول ہیں

جبل پور: نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے آج میڈیا پر زور دیا کہ وہ عدلیہ کے بارے میں رپورٹنگ کرتے وقت زیادہ محتاط رہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں ججوں کے وقار اور عدلیہ کے احترام کو برقرار رکھنا چاہیے کیونکہ یہ قانون کی حکمرانی اور آئین سازی کے بنیادی اصول ہیں۔

یہاں منعقدہ ‘جسٹس جے ایس ورما میموریل لیکچر’ میں مہمان خصوصی کے طور پر اپنے خطاب میں مسٹر دھنکھڑ نے کہا کہ ایک مضبوط، منصفانہ اور آزاد انصاف کا نظام جمہوری اقدار کے پنپنے اور موثر ہونے کی یقینی ضمانت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’جمہوریت بلاشبہ بہترین ترقی ہے جب تمام آئینی ادارے مکمل ہم آہنگی میں ہوں اور اپنے مخصوص شعبہ تک محدود ہوں‘‘۔

پہلے ‘جسٹس جے ایس ورما میموریل لیکچر’ میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس سنجے کشن کول نے کلیدی خطبہ دیا۔ راجستھان ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مسٹر ورما کے ساتھ سینئر ایڈوکیٹ کے طور پر اپنی بہت سی بات چیت کو یاد کرتے ہوئے مسٹر دھنکھڑ نے کہا کہ ان کے دور کو عدالتی ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے اور شفافیت اور جوابدہی کو بڑھانے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

وشاکھا کیس میں جسٹس ورما کے تاریخی فیصلے

سماج پر دور رس اثرات کے حامل کئی فیصلے سنانے کے لیے جسٹس ورما کی ستائش کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ وشاکھا کیس میں ان کے تاریخی فیصلے نے کام کی جگہ پر خواتین کے جنسی ہراسانی سے مناسب تحفظ کے لیے ایک پورے نظام کی تشکیل کی راہ ہموار کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آنجہانی جسٹس جگدیش شرن ورما کو ان کے راہ نما فیصلوں اور نظریات کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جنہوں نے شہریوں کو بااختیار بنایا اور حکومت کو لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے اداروں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانے کے قابل بنایا۔

جسٹس مسٹر ورما کے ہندوستان میں وفاقیت سے لے کر سیکولرازم اور صنفی مساوات تک کے قوانین کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر دھنکھڑ نے کہا کہ ان کی زندگی اور ان کے خیالات ہمیں اور آنے والی نسلوں کو متاثر کرتے رہیں گے۔