موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مدر ڈیری دودھ کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر کا اضافہ

مدر ڈیری نے این سی آر میں دودھ کی قیمتوں میں 2 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق بدھ سے ہوگا

نئی دہلی: مدر ڈیری نے دہلی-نیشنل کیپیٹل ریجن (این سی آر) میں دودھ کی قیمتوں میں 2 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تمام قسم کے دودھ کی نئی قیمتوں کا اطلاق بدھ سے ہوگا۔

مدر ڈیری نے آج ایک بیان میں کہا کہ پیداوار اور دیگر اخراجات میں اضافے کے پیش نظر انہوں نے دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ ماہ میں کمپنی کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران خام دودھ کی زرعی قیمتوں میں تقریباً 10-11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ مدر ڈیری نے اس سے قبل مارچ میں دہلی-این سی آر (قومی دارالحکومت علاقہ) میں دودھ کی قیمتوں میں 2 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا۔

نئی قیمتوں کا اطلاق دودھ کے تمام پیکجوں پر ہوگا

مدر ڈیری کے ایک اہلکار نے آج بتایا کہ کمپنی نے 17 اگست 2022 سے دودھ کی قیمتوں میں 2 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق دودھ کے تمام پیکجوں پر ہوگا۔

بدھ سے فل کریم دودھ کی قیمت 59 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 61 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ٹونڈ دودھ کی قیمت 51 روپے فی لیٹر جبکہ ڈبل ٹونڈ دودھ کی قیمت 45 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔

گائے کے دودھ کی قیمت 53 روپے فی لیٹر اور ٹوکن دودھ کی قیمت 46 روپے سے بڑھ کر 48 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔

کمپنی نے کہا کہ ملک میں موسم گرما کے دوران جانوروں کی خوراک کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کسانوں سے خریداری کی لاگت میں اضافے کے بوجھ کا صرف ایک حصہ صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔ کمپنی کی سیلز ریونیو کا تقریباً 75-80 فیصد کسانوں سے دودھ خریدنے پر جاتا ہے۔