موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اسٹاک مارکیٹ چھ ماہ بعد غیر ملکی سرمایہ کاروں کی خریداری کی وجہ سے گلزار

سینسیکس 214.17 پوائنٹس بڑھ کر 58350.53 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج نفٹی 42.70 پوائنٹس بڑھ کر 17388.15 پوائنٹس پر پہنچ گیا، تاہم، بڑی کمپنیوں کے برعکس بی ایس ای کی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں فروخت نے اسٹاک مارکیٹ کی رفتار کو سست کر دیا

ممبئی: جولائی میں چھ ماہ کے بعد ابھرتی ہوئی ایشیائی منڈیوں میں غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ایف آئی آئی) کی خرید کی وجہ سے گھریلو ایکویٹی مارکیٹ آج مسلسل چھٹے دن چڑھتی رہی۔

ہندوستان، جنوبی کوریا، ویتنام، تائیوان، فلپائن، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کے اسٹاک ایکسچینج سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں نے جولائی میں 1.23 بلین ڈالر کی خریداری کی۔ یہ دسمبر 2021 کے بعد کسی ایک ماہ میں کی جانے والی خریداری ہے۔ اس سے قبل گزشتہ چھ ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ان منڈیوں سے مسلسل فروخت کی ہے۔

سینسیکس 214.17 پوائنٹس بڑھ کر 58350.53 پوائنٹس پر پہنچ گیا

اس کی وجہ سے بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 214.17 پوائنٹس بڑھ کر 58350.53 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی 42.70 پوائنٹس بڑھ کر 17388.15 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ تاہم، بڑی کمپنیوں کے برعکس بی ایس ای کی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں فروخت نے اسٹاک مارکیٹ کی رفتار کو سست کر دیا۔ اس عرصے کے دوران مڈ کیپ 0.60 فیصد گر کر 24,388.12 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.28 فیصد گر کر 27,471.79 پوائنٹس پر آگیا۔

اس عرصے کے دوران بی ایس ای پر 3484 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 1371 میں خریداری جبکہ 1976 میں فروخت ہوئی، 137 کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای پر 25 کمپنیوں میں اضافہ ہوا جبکہ دیگر 25 میں کمی کا رجحان رہا۔

بی ایس ای پر فائنانس، ٹیک اور آئی ٹی گروپس کے علاوہ باقی 16 گروپس پر سیلنگ کا غلبہ 1.28 فیصد تک بڑھ گیا۔ اس دوران ہیلتھ کیئر 0.65، انڈسٹریز 0.61، ٹیلی کام 1.26، آٹو 0.78، کیپٹل گڈز 0.82، میٹل 0.54 اور ریئلٹی گروپ 0.73 فیصد گرے۔

عالمی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان رہا۔ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.06، جرمنی کا ڈی اے ایکس 0.27، جاپان کا نکی 0.53 اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.40 فیصد بڑھ گیا، جبکہ چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.71 فیصد کم ہوا۔