موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

میگھالیہ بی جے پی کے نائب صدر سیکس ریکیٹ میں شاہ-نڈا کو معافی مانگنی چاہئے: کانگریس

میگھالیہ میں وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے قریب گارو ہلز میں بی جے پی کے ریاستی نائب صدر کا 30 کمروں کا فارم ہاؤس ہے، جس میں جسم فروشی کا کاروبار چل رہا تھا۔ اس فارم ہاؤس میں چھاپے کے دوران کمسن لڑکیوں اور 23 خواتین کے ساتھ 75 افراد کو پکڑا گیا

نئی دہلی: کانگریس نے ہفتہ کو کہا کہ میگھالیہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی نائب صدر برنارڈ ماراک کے فارم ہاؤس سے پانچ نابالغ لڑکیوں اورکئی خواتین کے سیکس ریکیٹ میں پکڑے جانے کے معاملے میں بی جے پی کے صدر جے پی نڈا اوروزیر داخلہ امت شاہ کو ملک کے عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔

کانگریس کے ترجمان اجے کمار نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ میگھالیہ میں وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے قریب گارو ہلز میں بی جے پی کے ریاستی نائب صدر کا 30 کمروں کا فارم ہاؤس ہے، جس میں جسم فروشی کا کاروبار چل رہا تھا۔ اس فارم ہاؤس میں چھاپے کے دوران کمسن لڑکیوں اور 23 خواتین کے ساتھ 75 افراد کو پکڑا گیا۔

انہوں نے اسے ملک کی خواتین پر مظالم اور نابالغوں کے ساتھ ایک غیر انسانی اور مکروہ فعل قرار دیا اور کہا کہ اس واقعہ کے لئے مسٹر شاہ اور مسٹر نڈا کے ساتھ ہی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اور ٹیکسٹائل کی وزیر اسمرتی ایرانی کو بھی ملک کی خواتین سے معافی مانگنی چاہئے۔

ترجمان نے کہا، ’’یہ انتہائی حساس معاملہ ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس معاملے میں گرفتاریوں کے باوجود پورا معاشرہ اور پورا ملک خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے مفادات کے بہانے جارحیت کا مظاہرہ کرنے والی اسمرتی ایرانی اور محترمہ نرملا سیتا رمن کو آگے آکر ملک سے معافی مانگنی چاہئے۔