موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

جامعہ ملیہ اسلامیہ نے آج دسویں (ریگولر) بورڈ کے نتائج کا اعلان کردیا

پروفیسر نجمہ اختر، شیخ الجامعہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ٹاپرز کو مبارک باد دی اور روشن و تابناک مستقبل کے لیے نیک جذبات کا اظہار کیا

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ نے آج دسویں (ریگولر) بورڈ کے نتائج کا اعلان کردیا۔ کل طلبا جن کی تحسیب کی گئی ان میں تقریباً پچاس فیصد لڑکے اور پچاس اعشاریہ چار ایک لڑکیاں تھیں۔ کل نناوے اعشاریہ صفر تین فیصد طلبا نے امتحان پاس کیے ہیں۔ امتحان کا نتیجہ http://jmicoed.in/ پر دستیاب ہے۔ یہ اطلاع جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جاری کردہ ریلیز میں دی گئی ہے۔

ریلیز کے مطابق پہلی پوزیشن پر ایک لڑکی اور دو لڑکے آئے ہیں۔ صدف، محمد انشال اور ریحان رضوی نے بالترتیب سنتاونے اعشاریہ آٹھ چھ فیصد نمبرات حاصل کیے ہیں۔ محمد اختر رضا سنتانوے اعشاریہ پانچ سات فیصد نمبرات کے ساتھ دوسرے مقام پر رہے۔ تسمیہ رحمان اور ندا فاطمہ کے سنتانوے اعشاریہ چار تین نمبرات کی وجہ سے تیسری پوزیشن ٹائی رہی۔

ایک سو سولہ طلبا نے سمپل فرسٹ ڈویژن حاصل کی

کل پانچ سو تیرسٹھ طلبا نے امتیازی نمبرات کے ساتھ فرسٹ ڈویژن حاصل کی جب کہ ایک سو سولہ طلبا نے سمپل فرسٹ ڈویژن حاصل کی۔ پانچ سو تیرسٹھ طلبا جنھوں نے امتیازی نمبرات کے ساتھ فرسٹ ڈویژن حاصل کی ان میں تین سو تین لڑکیاں اور دوسو ساٹھ لڑکے تھے۔

پروفیسر نجمہ اختر، شیخ الجامعہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ٹاپرز کو مبارک باد دی اور روشن و تابناک مستقبل کے لیے نیک جذبات کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ جو طلبا چند نمبرات کی کمی کی وجہ سے ٹاپ نہیں کرسکے انھیں مایوس نہیں ہونا چاہیے اور زندگی میں آنے والی مصیبتوں اور مقابلوں کے لیے انتھک کوشش کرنی چاہیے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ طلبا ادارے اور ملک کا نام روشن کریں گے۔

پروفیسر اختر نے پرسکون انداز میں امتحانات کے انعقاد کے لیے پروفیسر ناظم حسین الجعفری، مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ، ڈینز اور دیگر فیکلٹی اراکین کی مساعی کی ستائش کی۔ انھوں نے بروقت امتحان کے نتائج کے اعلان کے لیے کنٹرولر آف امتحانات کے اسٹاف کی کوششوں اور ان کی محنت کی بھی تعریف کی۔