موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

گیان واپی مسجد: شیولنگ کی حفاظت کی جائے، نماز میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے پانچ خواتین کو نوٹس جاری کیا جنہوں نے راکھی سنگھ کی قیادت میں پوجا کرنے کی اجازت کے لیے نچلی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ ان خواتین نے وارانسی کے کاشی وشوناتھ مندر اور گیان واپی مسجد کمپلیکس میں پوجا کرنے کی اجازت کے لیے درخواست دی تھی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اتر پردیش کے وارانسی میں کاشی وشواناتھ مندر سے متصل گیان واپی مسجد کمپلیکس میں اس علاقے کی حفاظت کرے جہاں ہندوؤں کے مطابق ایک ‘شیولنگ پایا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ وہاں کسی مسلمان کو نماز پڑھنے سے نہیں روکا جائے گا اور نہ ہی کوئی رکاوٹ ڈالی جائے گی۔

جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا کی ڈیویژن بنچ نے متعلقہ فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ کو ہدایات جاری کیں۔

سپریم کورٹ نے پانچ خواتین کو نوٹس جاری کیا جنہوں نے راکھی سنگھ کی قیادت میں پوجا کرنے کی اجازت کے لیے نچلی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ ان خواتین نے وارانسی کے کاشی وشوناتھ مندر اور گیان واپی مسجد کمپلیکس میں پوجا کرنے کی اجازت کے لیے درخواست دی تھی۔

سپریم کورٹ اس معاملے کی اگلی سماعت 19 مئی کو کرے گی۔