موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

شمالی کوریا میں کووڈ کے پہلے کیس کے بعد سخت لاک ڈاؤن کا اعلان

شمالی کوریا نے اپنی آبادی کے لیے کسی طرح کی ویکسینیشن مہم نہیں چلائی ہے

پیانگ یانگ: ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا (ڈی پی آر کے) میں جمعرات کو دو برسوں میں پہلا کووڈ-19 معاملہ سامنے آنے کے بعد شمالی کوریا کے حکام نے سخت قومی لاک ڈاؤن کا حکم دیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق دارالحکومت پیانگ یانگ میں اومیکرون ویرینٹ کاقہرکافی زیادہ ہے، حالانکہ ابھی تک متاثرہ افراد کی تعداد کے بارے میں معلومات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

سرکاری کورین سنٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) کے مطابق یہ سب سے بڑی ایمرجنسی ہے۔ اس معاملے کے تعلق سے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان ہنگامی بات چیت کر رہے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ وائرس ملک میں کافی عرصے سے موجود ہے۔

قابل ذکر ہے کہ شمالی کوریا نے اپنی آبادی کے لیے کسی طرح کی ویکسینیشن مہم نہیں چلائی ہے۔ ملک نے چین میں بنی سینووک ویکسین اور ایسٹرازینیکا جیبس دونوں ویکسین کو خارج کردیا تھا۔

وبائی مرض کے آغاز کے بعد سے، ملک نے اپنی سرحدیں بند کرکے انفیکشن سے بچنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کی وجہ سے سنگین معاشی حالات اور خوراک کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔