موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

غداری قانون پر سپریم کورٹ نے لگائی روک

بنچ نے واضح کیا کہ جب تک ملک سے غداری قانون پر نظر ثانی نہیں ہوتی، اس دفعہ کے تحت کوئی مقدمہ درج یا کسی بھی قسم کی تفتیش نہیں کی جائے گی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کو غداری قانون پر روک لگا دی اور مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 124- اے کے تحت ایف آئی آر درج نہ کرنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس این وی رمن کی سربراہی میں تین ججوں کی بنچ نے غداری کے قانون کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت کے بعد اپنے عبوری حکم میں کہا کہ آئی پی سی کی دفعہ 124- اے کے تحت تمام کارروائیاں ملتوی کی جاتی ہیں۔

بنچ نے کہا کہ دفعہ 124- اے کے تحت جیل میں نظر بند افراد راحت اور ضمانت کے لیے مجاز عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔ بنچ نے مرکز سے غداری کے قانون پر دوبارہ غور کرنے کو بھی کہا ہے۔ بنچ نے واضح کیا کہ جب تک ملک سے غداری قانون پر نظر ثانی نہیں ہوتی، اس دفعہ کے تحت کوئی مقدمہ درج یا کسی بھی قسم کی تفتیش نہیں کی جائے گی۔

معاملے کی اگلی سماعت جولائی کے تیسرے ہفتے میں ہوگی۔

ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا، سابق میجر جنرل ایس جی وومبٹکیرے، ترنمول کانگریس ایم پی مہوا موئترا، صحافی انیل چامڑیا اور دیگر نے عدالت عظمیٰ میں غداری کے قانون کے آئینی جواز کو چیلنج کیا ہے۔ سینئر صحافی اور سابق مرکزی وزیر ارون شوری نے بھی اپنی درخواست میں کہا ہے کہ غداری قانون آئین کے آرٹیکل 14 اور 19(1)(اے) کی خلاف ورزی کرتا ہے۔