موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

لاؤڈ اسپیکر تنازعہ: کرناٹک میں ایک ہزار سے زیادہ مندروں میں ہنومان چالیسا کا پاٹھ

شری رام سینا کے بانی پرمود متالک نے میسور ضلع کے مندر میں صبح 5 بجے لاؤڈ سپیکر پر ہنومان چالیسا کے پاٹھ کا افتتاح کیا

بنگلور: کرناٹک میں مساجد میں اذان کے لیے لاؤڈ سپیکر کے استعمال کے خلاف پیر کو ریاست بھر کے ایک ہزار سے زیادہ مندروں میں صبح 5.30 بجے سے صبح 6.00 بجے تک ہنومان چالیسا کا پاٹھ کیا گیا اور سو پربھات بھجن گائے گئے۔

بنگلور، میسور، منڈیا، بیلگام، دھارواڑ، ہبلی، کلبرگی اور ریاست بھر کے دیگر مقامات پر مندروں میں شری رام سینا اور دیگر ہندو گروپوں کے تعاون سے ہنومان چالیسا کا پاٹھ کیا گیا۔

شری رام سینا کے بانی پرمود متالک نے میسور ضلع کے مندر میں صبح 5 بجے لاؤڈ سپیکر پر ہنومان چالیسا کے پاٹھ کا افتتاح کیا۔

اس کے بعد 6 بجے متالک نے نامہ نگاروں سے کہا کہ اگر ریاستی حکومت مساجد میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال کے خلاف کارروائی نہیں کرتی ہے تو ہندو کارکن آنے والے دنوں میں ہنومان چالیسا کا ورد تیز کردیں گے۔