موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مسجد میں لاؤڈ اسپیکر لگانا بنیادی حق نہیں: الہ آباد ہائی کورٹ

ہائی کورٹ کے جسٹس وویک کمار برلا اور جسٹس وکاس کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ مسجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینا آئین میں دیے گئے بنیادی حق کے زمرے میں نہیں آتا ہے

پریاگ راج: الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک عرضی کو خارج کر دیا ہے، جس میں مساجد میں اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر لگانے کو آئین کے تحت بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔

ہائی کورٹ کے جسٹس وویک کمار برلا اور جسٹس وکاس کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ مسجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینا آئین میں دیے گئے بنیادی حق کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اذان اسلام کا اٹوٹ حصہ ہے لیکن لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینا اسلام کا حصہ نہیں ہے۔

درخواست گزار عرفان نے ہائی کورٹ میں یہ عرضی داخل کرتے ہوئے گزشتہ سال 3 دسمبر کو بدایوں کے ڈپٹی کلکٹر (ایس ڈی ایم) کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں انہوں نے ضلع کے دھورن پور گاؤں میں واقع نوری مسجد میں لاؤڈ اسپیکر لگانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ درخواست گزار نے دلیل دی کہ ایس ڈی ایم کا حکم ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے، اس لیے یہ حکم غیر قانونی ہے۔