موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مالی سال 2021-22 میں بینک کریڈٹ میں 10458 ارب روپے کا اضافہ درج کیا گیا: ایس بی آئی ریسرچ رپورٹ

مسٹر گھوش نے لکھا، ایسا لگتا ہے کہ معیشت میں کووڈ-19 کی وبا کے اثرات کو جھٹک کر دور کردیا ہے۔ بینک کریڈٹ میں تمام شعبوں میں توسیع نظر آئی ہے

نئی دہلی: مالی سال 2021-22 میں ملک میں بینک کریڈٹ میں 10,458 ارب روپے کا اضافہ درج کیا گیا، جو پچھلے سال کے دوران 5767 ارب روپے کے اضافہ کا 1.8 گنا ہے۔

یہ معلومات اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے چیف اکانومسٹ سومیا کانتی گھوش کے ذریعہ تیار کردہ ایس بی آئی ریسرچ کی ایکوریپ رپورٹ میں دی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایم ایس ایم ای اور انفراسٹرکچر سیکٹر کو بینک لون میں 2,300 ارب روپے کا زبردست اضافہ ہوا، جبکہ ہاؤسنگ اور غیر بینکنگ مالیاتی کمپنی کے شعبے این بی ایف سی کو بینک قرض میں سال کے دوران 2,000 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

مسٹر گھوش نے رپورٹ میں کہا کہ ریٹیل لون میں اس دوران 3,700 ارب روپے کا زبردست اضافہ ہوا۔ اس میں ایک بڑا حصہ ہاؤسنگ لون کے کاروبار میں تیزی تھی۔ زرعی شعبے کے قرضے میں 1,325 ارب کا اضافہ ہوا۔

انہوں نے لکھا، ایسا لگتا ہے کہ معیشت میں کووڈ-19 کی وبا کے اثرات کو جھٹک کر دور کردیا ہے۔ بینک کریڈٹ میں تمام شعبوں میں توسیع نظر آئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا، "ہمیں بینک کریڈٹ میں ایک دلچسپ رجحان ملا ہے جو مالی سال 2022-23 میں معیشت کے لیے اچھا اشارہ ہے۔” اب یہ نظر آرہا ہے کہ پبلک سیکٹر کے بینکوں کی جانب سے دئے جانے والے قرض میں توسیع سے نجی شعبے کے بینکوں کے قرضے کے کاروبار میں بھی تیزی آئی ہے۔