موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

امید ہے کہ عدالت عظمیٰ آرٹیکل 370 کی تنسیخ پر روک لگا دے گی: محبوبہ مفتی

محبوبہ مفتی نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ معزز عدالت نہ صرف آرٹیکل 370 کی تنسیخ پر روک لگا دے گی بلکہ باقی لائے گئے قوانین کو بھی منسوخ کرے گی

سری نگر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ایک ریاست کا خصوصی درجہ چھیننے پر مرکزی فیصلے کو چلینج کرنے لئے دائر درخواستوں کی سماعت کرنے کے لئے عدالت عظمیٰ کو تین برس کا وقت لگ گیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ معزز عدالت نہ صرف دفعہ 370 کی تنسیخ پر روک لگا دے گی بلکہ باقی جو قوانین لائے گئے ہیں ان کو بھی منسوخ کرے گی۔

موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار منگل کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں کیا۔

انہوں نے یہ ٹویٹ عدالت عظمیٰ کی طرف سے گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد ان تمام درخواستوں جن میں جموں وکشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی دفعہ 370 کی دفعات کو منسوخ کرنے کے مرکزی فیصلے کو چلینج کیا گیا ہے، پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کرنے کے تناظر میں کیا۔

محبوبہ مفتی نے اپنے ٹویٹ میں کہا: ’ایک ریاست سے قانونی و آئینی حیثیت کو چھین کر اس کو دو حصوں میں منقسم کرکے بے اختیار کر دیا گیا اور اس کے باوجود بھی عدالت عظمیٰ کو کیس درج کرنے میں تین سال لگ گئے‘۔

ان کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا: ’مجھے امید ہے کہ معزز عدالت نہ صرف دفعہ 370 کی تنسیخ پر روک لگا دے گی بلکہ باقی لائے گئے قوانین کو بھی منسوخ کرے گی‘۔