موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سپریم کورٹ آرٹیکل 370 پر گرمی کی چھٹیوں کے بعد سماعت کے لیے راضی

آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی درجہ ختم کرنے اور اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرنے کے مرکزی حکومت کے اگست 2019 کے فیصلے کے خلاف قریب دو درجن عرضیاں دائر کی گئی تھیں

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرکے اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرنے کے قانون کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر گرمی کی چھٹیوں کے بعد سماعت کرنے پر اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے پیر کو کہا کہ وہ عرضیوں کو جولائی میں فہرست بند کرنے کی کوشش کرے گا۔

چیف جسٹس این وی رمن کی صدارت والی بینچ نے سینئر وکیل شیکھر نفڑے اور پی چدمبرم کی اپیل پر کہا کہ عرضیوں پر پانچ ججوں کی بینچ سماعت کرے گی۔

سینئر وکیل مسٹر نفڑے اور چدمبرم نے خصوصی تذکرے کے دوران عرضیوں پر اگلے ہفتے سماعت کی اپیل کی تھی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جولائی میں عرضیوں پر سماعت کرنے کے لئے فہرست بند کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

جسٹس رمن نے اگلے ہفتے سماعت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عرضیوں کو پانچ ججوں کی بینچ کے سامنے فہرست بند کیا جانا ہے۔ چونکہ ان پر سماعت کرنے والی بنیادی بینچ کے کچھ جج سبکدوش ہو چکے ہیں، لہذا اسے پھر تشکیل دینا ہوگا۔

واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی درجہ ختم کرنے اور اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرنے کے مرکزی حکومت کے اگست 2019 کے فیصلے کے خلاف قریب دو درجن عرضیاں دائر کی گئی تھیں۔