موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ہندوستان کے خلاف جھوٹ پھیلانے پر 10 ہندوستانی، چھ پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی

اس حکم میں ہندوستان کے جن یوٹیوب چینلوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں سینی ایجوکیشن ریسرچ، ہندی میں دیکھو، ٹیکنیکل یوگیندرا، آج تے نیوز، ایس بی بی نیوز، ڈیفنس نیوز 24×7، دی اسٹڈی ٹائم، تازہ ترین اپڈیٹس، ایم آر ایف ٹی وی لائیو اور تحفظ دین انڈیا کے نام ہیں

نئی دہلی: اطلاعات و نشریات کی وزارت نے ہندوستان کی قومی سلامتی، بیرونی ممالک کے ساتھ تعلقات اور امن و امان کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کے معاملے میں 16 یوٹیوب چینلز پر پیر کو پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔

وزارت کے بیان کے مطابق ان میں 10 ہندوستان اور چھ پاکستان سے چلائے جا رہے چینل ہیں۔

ریلیز کے مطابق یہ کارروائی انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز کے تحت فراہم کردہ ہنگامی اختیارات کے تحت کی گئی ہے۔ یہ چینل خبریں شائع کرتے تھے اور انہیں کل 68 کروڑ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ چین ہندوستان میں خوف کا ماحول پیدا کرنے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و امان کو خراب کرنے کے لیے غلط اور غیر تصدیق شدہ معلومات پھیلاتے تھے۔ ممنوعہ پاکستانی چینلز میں آج تک پاکستان، ڈسکور، پوائنٹ ریئلٹی چیکس، قیصر خان، دی وائس آف ایشیا اور بول میڈیا بول شامل ہیں۔ انہیں کل 26 کروڑ 28 لاکھ 41 ہزار بار دیکھا جا چکا ہے اور ان کے شامل صارفین کی تعداد 17 لاکھ سے زیادہ ہے۔

اس حکم میں ہندوستان کے جن یوٹیوب چینلوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں سینی ایجوکیشن ریسرچ، ہندی میں دیکھو، ٹیکنیکل یوگیندرا، آج تے نیوز، ایس بی بی نیوز، ڈیفنس نیوز 24×7، دی اسٹڈی ٹائم، تازہ ترین اپڈیٹس، ایم آر ایف ٹی وی لائیو اور تحفظ دین انڈیا کے نام ہیں۔ انہیں تقریباً 42 کروڑ 21 لاکھ بار دیکھا جا چکا ہے اور ان سے جڑے صارفین کی کل تعداد 25 لاکھ 54 ہزار سے زیادہ ہے۔

وزارت نے تحفظ دین میڈیا سروسز انڈیا کے نام سے فیس بک اکاؤنٹ پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ اس اکاؤنٹ سے جڑے لوگوں کی تعداد 23 ہزار سے زیادہ بتائی گئی ہے۔