موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کولگام جھڑپ میں جیش سے وابستہ دو پاکستانی دہشت گرد مارے گئے: آئی جی کشمیر

آئی جی کشمیر وجے کمار نے بتایا کہ مہلوک پاکستانی ملی ٹینٹ سال 2018 سے کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سرگرم تھے

سری نگر: جنوبی ضلع کولگام کے مرہامہ گاوں میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین تصادم میں دو پاکستانی دہشت گرد مارے گئے۔

آئی جی کشمیر وجے کمار نے بتایا کہ مہلوک پاکستانی ملی ٹینٹ سال 2018 سے کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سرگرم تھے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ ہفتے کے روز حفاظتی عملے کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ ملی ٹینٹ جنوبی ضلع کولگام کے مرہامہ گاوں میں چھپے بیٹھے ہیں تو پولیس اور سیکورٹی فورسز نے مشترکہ طورپر فوراً ا س علاقے کو محاصرے میں لے کر اُنہیں ڈھونڈ نکالنے کے لئے کارروائی شروع کی۔

انہوں نے بتایا کہ فرار ہونے کے تمام راستے مسدود پا کر دہشت گردوں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی چنانچہ سلامتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی۔

موصوف ترجمان کے مطابق کچھ عرصے تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں دو ملی ٹینٹ مارے گئے جن کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ وگولہ بارود اور قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔

دریں اثنا آئی جی کشمیر وجے کمار نے بتایا کہ مرہامہ کولگام تصادم میں جیش سے وابستہ دو پاکستانی ملی ٹینٹ مارے گئے۔

مہلوکین کی شناخت

انہوں نے مہلوکین کی شناخت سلطان پٹھان اور زبی ا ﷲ ساکنان پاکستان کے بطور کی ۔

آئی جی کشمیر نے مزید کہا کہ دونوں سال 2018 سے شوپیاں اور کولگام بیلٹ میں سرگرم تھے اور اُن کی ہلاکت سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے۔

علاوہ ازیں پولیس نے عوام سے پر زور اپیل کی ہے کہ وہ جائے تصادم پر جانے سے تب تک گریز کیا کریں جب تک اسے پوری طرح سے صاف قرار نہ دیا جائے کیونکہ پولیس اور دیگر سلامتی ادارے لوگوں کے جان و مال کی محافظ ہے لہذا لوگوں کی قیمتی جانوں کو بچانے کیلئے پولیس ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔