موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

رکن پارلیمنٹ اویسی دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں پہنچے، پولیس نے روکا

لوک سبھا کے رکن اسد الدین اویسی بدھ کی شام شمال مغربی دہلی کے تشدد زدہ علاقے جہانگیر پوری پہنچے، لیکن پولیس نے ان کو علاقے میں لگائی ناکہ بندی سے آگے جانے نہیں دیا

نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے رہنما اور لوک سبھا کے رکن اسد الدین اویسی بدھ کی شام شمال مغربی دہلی کے تشدد زدہ علاقے جہانگیر پوری پہنچے، لیکن پولیس نے ان کو علاقے میں لگائی ناکہ بندی سے آگے جانے نہیں دیا۔

اپنے حامیوں کی ایک بڑی تعداد کے درمیان میڈیا سے بات کرتے ہوئے، مسٹر اویسی نے سوال کیا ’’علاقے میں بغیر اطلاع کے مکانات کیوں گرائے گئے‘‘۔

واضح رہے کہ جہانگیر پوری علاقے میں ہنومان جینتی کے موقع پر جلوس پر پتھراؤ اور فائرنگ کے واقعے کے بعد آج صبح پولیس نے علاقے سے تجاوزات ہٹانے کے لیے بلڈوزر کا استعمال کیا۔ تاہم سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد تجاوزات ہٹانے کی کارروائی ملتوی کردی گئی۔ عدالت اس معاملے کی سماعت جمعرات کو کرے گی۔

ایم پی اویسی نے یہ بھی سوال کیا کہ جلوس بغیر اجازت کیوں نکالا گیا اور لوگوں نے ہتھیاروں کے ساتھ اس میں کیسے حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کی اس کارروائی سے کئی لوگوں کی روزی روٹی چھن گئی ہے۔ یہ قدم غلط ہے اور ہندوستان کے اصول و ضوابط کی نفی کرتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جن لوگوں پر کارروائی کی گئی وہ غیر قانونی طور پر مقیم روہنگیا اور بنگلہ دیشی ہیں۔