موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مدھیہ پردیش: مسلم وفد نے وزیر داخلہ سے ملاقات کی

ڈاکٹر مشرا نے وفد سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ بھائی چارے کو بگاڑنے والوں کی نشاندہی کرنے میں حکومت کا تعاون کریں

بھوپال: مدھیہ پردیش کے دو ضلعوں کے کچھ حصوں میں پھیلے تشدد کے درمیان آج مسلم سماج کے ایک وفد نے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا سے ملاقات کی۔

اس ملاقات کے بعد ڈاکٹر مشرا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ شہر قاضی کی قیادت میں آئے والے مسلم وفد نے انہیں ایک میمورنڈم سونپا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے مسلم وفد سے ملاقات میں ان کے تمام خدشات کو حل کیا۔ انہیں اس بات پر بھی یقین دلایا کہ بے قصور لوگوں کا استحصال نہیں کیا جائےگا، لیکن قصورواروں کو بخشا بھی نہیں جائےگا۔

ڈاکٹر مشرا نے کہا کہ انہوں نے وفد سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ بھائی چارے کو بگاڑنے والوں کی نشاندہی کرنے میں حکومت کا تعاون کریں۔

اس سے پہلے صبح ڈاکٹر مشرا نے کہا کہ مسجدوں پر سی سی ٹی وی کی بھوپال شہر قاضی کی پہل اچھی ہے۔ اگر کسی قدم سے شبہ دور ہوتا ہے اور باہمی یقین بڑھتا ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔

بھوپال کے قاضی اور کئی مسلم تنظیموں نے سماج کے سبھی اراکین سے اپیل کی تھی کہ مسجدوں کے باہر سی سی ٹی وی کیمرا لگوایا جانا چاہئے، تاکہ اگر کوئی سماج دشمن عناصر کوئی حرکت کرے تو اس کا ریکارڈ رہے۔ ڈاکٹر مشرا اسی پہل پر تبصر ہ کررہے تھے۔