موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

جنگ سے تنازعہ کا حل ممکن نہیں ہے: جئے شنکر

مسٹر جئے شنکر نے قاعدہ 193 کے تحت یوکرین کی صورتحال پر بحث کا ایوان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنگ سے تنازعہ کا حل نہیں کیا جا سکتا۔ تنازعہ کے حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کیا جائے

نئی دہلی: وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے بوچا قتل عام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بدھ کے روز لوک سبھا میں کہا کہ جنگ سے تنازعہ کا حل ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اپنانا چاہیے۔

مسٹر جئے شنکر نے قاعدہ 193 کے تحت یوکرین کی صورتحال پر بحث کا ایوان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنگ سے تنازعہ کا حل نہیں کیا جا سکتا۔ تنازعہ کے حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے بوچا قتل عام کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کے معاملے پر ہندوستان کی پہلی رائے یہ ہے کہ ہم اس لڑائی کے خلاف ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ خونریزی اور بے گناہوں کو مارنے سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ آج کے دور میں کسی بھی تنازع کو حل کرنے کا صحیح طریقہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن گنگا ایک بڑا چیلنج تھا۔ جنگ کے دوران ہم نے لوگوں کو بحفاظت باہر نکالا۔ اس کے ساتھ دیگر ممالک کے شہریوں کو بھی وہاں سے نکال لیا گیا۔ ایسا کسی ملک نے نہیں کیا۔ بقیہ ممالک آج ہماری مثال دے رہے ہیں۔ وہاں پر طلباء نے بڑی ہمت کا مظاہرہ کیا۔ میں یہ بات بھی ضرور کہوں گا اگر ہمارے چار وزیر نہ جاتے تو یہ کام اتنا آسانی سے نہ ہوتا۔ میں اس پورے ٹیم ورک کی تعریف کرتا ہوں۔