موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

تین ماہ کے اندر عام انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں: پاکستانی الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ انتخابی حلقوں کی تازہ حد بندی اور ضلع اور حلقے کی بنیاد پر انتخابی فہرستوں کی تیاری بڑے چیلنجز ہیں، جس کی وجہ سے عام انتخابات کے انعقاد میں تقریباً چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے

اسلام آباد: پاکستان کے الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ قانونی، آئینی اور دیگر چیلنجوں کے پیش نظر پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے بعد تین ماہ کے اندر عام انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔

یہ اطلاع منگل کو میڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ سے سامنے آئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے ٹویٹ کیا کہ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ اس سے قبل میڈیا رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے بعد تین ماہ میں انتخابات کرانے سے نااہلی کا اظہار کیا ہے۔

ڈان اخبار کے مطابق الیکشن کمیشن کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ انتخابی حلقوں کی تازہ حد بندی اور ضلع اور حلقے کی بنیاد پر انتخابی فہرستوں کی تیاری بڑے چیلنجز ہیں۔ جس کی وجہ سے عام انتخابات کے انعقاد میں تقریباً چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

اہلکار نے کہا کہ انتخابی عمل سے متعلق مواد کی خریداری، بیلٹ پیپرز کا بندوبست اور انتخابی عملے کی بھرتی اور تربیت بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کو وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ صدر مملکت عارف علوی کو اسنیپ پول کرانے کی سفارش بھیج دی گئی ہے۔