موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سری لنکا میں سیاسی افراتفری، اتحادیوں نے چھوڑا حکومت کا ساتھ

سری لنکا میں سیاسی افراتفری اس وقت عروج پر، سری لنکا فریڈم پارٹی نے پارلیمنٹ میں ایک آزاد گروپ کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا

کولمبو: سری لنکا میں سیاسی افراتفری اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب ایک اہم اتحادی سری لنکا فریڈم پارٹی (ایس ایل ایف پی) نے پیر کو حکومت کا ساتھ چھوڑ دیا۔

پارٹی نے پارلیمنٹ میں ایک آزاد گروپ کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے مطابق پارٹی کے 14 ایم پی پارلیمنٹ میں آزاد گروپ کے طور پر کام کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ پارٹی کی نمائندگی کرنے والے وزراء پرینکارا جیارتنے، لسانتھا الگیاوانا اور ڈومینڈا ڈیسنائیکے نے اپنے وزارتی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

قبل ازیں سری لنکا فریڈم پارٹی نے صدر گوٹابایا راجا پاکسے سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر نگران حکومت کا تقرر کریں تاکہ بہت سی پریشانیوں کو دور کیا جا سکے۔ یکم اپریل کو صدر کو لکھے گئے خط میں پارٹی نے مطلع کیا تھا کہ اگر نگراں حکومت کی تقرری کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے گئے تو حکومت میں شامل تمام 14 پارٹی اراکین پارلیمنٹ اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں گے اور پارلیمنٹ میں آزاد رہیں گے۔

پارٹی نے کہا تھا کہ آئندہ چند دنوں میں پارلیمنٹ میں نمائندگی کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے نگراں حکومت کے تقرر کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک کو ایک مستقل پروگرام کے تحت چلایا جا سکے۔