موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مرکزی ملازمین کے مہنگائی بھتے میں 3 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ

حکومت نے مرکزی ملازمین کے مہنگائی بھتے میں تین فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس اضافے کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا

نئی دہلی: حکومت نے مرکزی حکومت کے ملازمین کے مہنگائی بھتے میں تین فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی وجہ سے مہنگائی بھتے کی شرح بڑھ کر 34 فیصد ہوگئی ہے۔

اس اضافے کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کے روز یہاں منعقدہ مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں اس سلسلے میں ایک تجویز کو منظوری دی گئی۔

تجویز میں مرکزی حکومت کے ملازمین کے لیے مہنگائی بھتہ (ڈی اے) اور پنشنرز کے لیے مہنگائی ریلیف (ڈی آر) کی اضافی قسط جاری کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جو یکم جنوری سے لاگو ہوگی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ منظور شدہ اصولوں کے مطابق ہے، جو ساتویں مرکزی پے کمیشن کی سفارشات پر مبنی ہے۔

مہنگائی بھتہ اور مہنگائی ریلیف کی وجہ سے سرکاری خزانے پر 9,544.50 کروڑ روپے کا مشترکہ اثر پڑے گا۔ اس سے تقریباً 47.68 لاکھ مرکزی حکومت کے ملازمین اور 68.62 لاکھ پنشن یافتگان کو فائدہ پہنچے گا۔