موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کیف میں پھر سے دھماکہ، جی سیون کی روس پر مزید پابندیاں لگانے کی دھمکی، برازیل کا پابندیاں عائد کرنے سے انکار

یوروپی یونین کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ جاری رہی تو 70 لاکھ سے زائد افراد کے بے گھر ہونے کا امکان ہے

کیف/برازیلیا: یوکرین میں روسی حملے کے بعد روسی فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔ کیف اور خار کیف میں کئی گھنٹوں کے سکون کے بعد پھر سے دھماکے سنے گئے ہیں۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ یوکرینی فضائیہ روسی فوج کے قافلوں پر ڈرون حملے کر رہی ہے، جس سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

دریں اثنا یوروپی یونین کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ جاری رہی تو 70 لاکھ سے زائد افراد کے بے گھر ہونے کا امکان ہے۔

یوروپی یونین کمشنر برائے کرائسس مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ بر اعظم یوروپ میں سالوں بعد انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔

خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ جی سیون رہنماؤں نے روس پر مزید پابندیاں لگانے کی دھمکی دی ہے۔

جی سیون نے کہا ہے کہ روس نے یوکرین پر حملے جاری رکھے تو مزید پابندیاں لگائیں گے اور روس کی یوکرین پر عسکری کامیابی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

برازیل کا روس پر پابندیاں عائد کرنے سے انکار

برازیل کے صدر جیر بولسونارو نے پیر کو روس پر پابندیاں عائد کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یوکرین پر غیر جانبدارانہ موقف اختیار کریں گے۔

مسٹر بولسونارو نے کہا کہ برازیل کا انحصار روسی کھاد پر ہے اور ماسکو کے خلاف پابندیاں لگانے سے برازیل میں زراعت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امن کے حامی ہیں لیکن برازیل میں مزید مسائل پیدا نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین کے لوگوں نے ایک مزاح نگار پر بھروسہ کرکے ملک کا مستقبل اس کے ہاتھ میں دے دیا اور روس کے لوہانسک اور ڈونیٹسک کو آزاد ممالک کے طور پر تسلیم کرنے کے اقدام کا دفاع کیا۔

مسٹر بولسونارو نے 16 فروری کو ماسکو کے دورے کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی تھی۔