موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

عالیہ یونیورسٹی کولکاتا کے سابق طالب علم انیس خان کو کس نے مارا؟

انیس خان نو تشکیل شدہ انڈین سیکولر فرنٹ (ISF) سے وابستہ تھے، انہوں نے یونیورسٹی کے ناقص کام کاج کے خلاف عالیہ یونیورسٹی کے طلباء کی تحریک میں حصہ لیا تھا اور کولکاتا میں سی اے اے مخالف مظاہرے میں پیش پیش رہے تھے۔

ہاوڑہ ضلع میں عالیہ یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم انیس خان کی موت نے حکمراں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور اس کی حریف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان سیاسی الزام تراشی کا کھیل شروع کر دیا ہے۔

انیس خان کو ہفتے کی صبح پولیس کی وردی پہنے چار افراد نے مبینہ طور پر ان کے گھر کی چھت سے پھینک دیا۔ کولکاتا کی سرکردہ سماجی کارکنان پر مشتمل شخصیات کے ایک گروپ نے انیس کے گھر کا دورہ کیا اور مجرموں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ تاہم پولیس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی انیس خان کے گھر گیا تھا۔

مسلم طبقہ سے تعلق رکھنے والے طالب علم کے مبینہ قتل نے ٹی ایم سی کی شرمندگی کا باعث بن چکا ہے کیونکہ اقلیتی طبقہ کو پارٹی کا مضبوط ووٹ بینک سمجھا جاتا ہے۔ بی جے پی کے قومی نائب صدر دلیپ گھوش نے کہا ہے کہ، "ٹی ایم سی کیڈر اپنے سیاسی حریفوں کو نشانہ بنا رہے تھے اور اب وہ اپنے ووٹروں کو بھی نہیں بخش رہے ہیں۔ ہم اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔”

انیس خان کا تعلق نو تشکیل شدہ انڈین سیکولر فرنٹ (ISF) سے تھا، جو حالیہ اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے خلاف لڑنے والے اتحاد کا حصہ تھا۔ اس سے پہلے وہ سی پی آئی (ایم) کے طلبہ ونگ ایس ایف آئی کے حامی تھے۔

انیس نے عالیہ یونیورسٹی کے طلباء کی طرف سے یونیورسٹی کے مبینہ ناقص کاموں کے خلاف شروع کی گئی تحریک میں حصہ لیا تھا۔ انیس کو کولکاتا کے پارک سرکس میدان میں سی اے اے مخالف احتجاج میں بھی پیش پیش رہنے والا بتایا جاتا ہے۔

ٹی ایم سی کے وزیر فرہاد حکیم نے کہا ہے کہ حملہ آور باہر سے آئے تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مجرموں کا تعلق اتر پردیش سے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اتوار کو کہا کہ، "یہ سیاست کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پولیس کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے تحقیقات کرنے دیں۔‘‘ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس رینک کے ایک افسر کی سربراہی میں تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

سی پی آئی (ایم) کے راجیہ سبھا کے رکن بیکاش بھٹاچاریہ نے کہا کہ انیس کا قتل اعلیٰ سطح پر بنائے گئے منصوبے سے ہوا ہے۔ ہوڑہ کے امتا پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی شکایت میں، انیس کے والد سلام خان نے چار افراد پر الزام لگایا ہے، جن میں سے ایک پولیس کی وردی میں اس کے گھر میں داخل ہوا تھا۔

سلام خان نے اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ، "جب میں نے کہا کہ انیس گھر پر نہیں ہے تو وہ اوپر کی طرف بھاگے اور میں نے ایک آواز سنی۔ میں نے انیس کو پھر نیچے خون میں لت پت پڑا پایا۔” سلام نے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔