موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

احمد آباد سلسلہ وار دہشت گردانہ بم دھماکوں کے معاملے میں 38 کو پھانسی، 11 کو عمر قید کی سزا

گذشتہ آٹھ فروری کو احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے کے 79 میں 49 ملزموں کو مجرم قرار دیا گیا تھا اور دیگر 28 کو بری کر دیا گیا تھا

احمد آباد: گجرات کے شہر احمد آباد میں 26 جولائی 2008 کو ہوئے سلسلہ وار دہشت گردانہ بم دھماکوں کے معاملے میں یہاں کی ایک خصوصی عدالت نے آج 49 ملزمان میں سے 38 کو سزائے موت اور باقی 11 کو عمر قید کی سزا سنائی۔

خصوصی جج اے آر پٹیل کی عدالت نے گذشتہ آٹھ فروری کو اس معاملے کے 79 میں 49 ملزموں کو مجرم قرار دیا تھا اور دیگر 28 کو بری کر دیا تھا۔ ایک دیگر ملزم کی شنوائی کے دوران موت ہو چکی ہے۔

عدالت نے آج اس معاملے میں سزا سبابت کے دوران 49 مجرم ثابت ہونے والے ملزموں میں سے 48 پر دو لاکھ 85 ہزار روپے (ہر ایک پر) کا جرمانہ بھی عائد کیا۔

عدالت نے اس واقعہ کے سبھی 56 ہلاک ہونے والوں کے لیے ایک ایک لاکھ روپیے، 240 زخمیوں میں سے سنگین کے لیے 50-50 ہزار اور تھوڑے زخمیوں کے لیے 25-25 ہزار کے معاوضے کا بھی التزام کیا۔

خیال رہے کہ یہاں سول اسپتال اور ایل جی اسپتال سمیت 23 بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر اس روز شام 6.30 سے ​​8.45 کے درمیان دھماکے ہوئے تھے جن میں 56 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 240 افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد اسی سال 28 سے 31 جولائی کے درمیان شہر سورت سے 29 بم برآمد ہوئے جو احمد آباد کے دھماکوں میں استعمال ہوئے تھے۔

گجرات پولیس کی تحقیقات کے بعد اس معاملے میں پہلے 11 افراد کو 15 اگست 2008 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

2002 کے گجرات فسادات

تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ ان دھماکوں کے پیچھے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، انڈر ورلڈ اور کالعدم تنظیم سیمی سے تبدیل ہوئی انڈین مجاہدین کا ہاتھ تھا۔ ان لوگوں نے مبینہ طور پر 2002 کے گجرات فسادات کا بدلہ لینے کے لیے یہ دھماکہ انجام دیا تھا۔

تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ مئی میں احمد آباد کے قریب وٹووا علاقے میں اس واقعہ کے لیے سازش رچی گئی تھی۔