موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مولانا ارشد مدنی نے کہا حجاب ہندوستانی روایت میں ہے اور پردہ شرم کی علامت ہے

مولانا ارشد مدنی نے اتر پردیش قانون ساز اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالنے کے بعد کرناٹک میں حجاب تنازعہ کے حوالے سے ایک اہم بیان دیا

جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اتر پردیش قانون ساز اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالنے کے بعد کرناٹک میں حجاب تنازعہ کے حوالے سے ایک اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ نقاب ہمارے ملک کی روایت اور تہذیب میں پہلے سے موجود ہے اور کہا کہ ہر کوئی لباس پہنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی مذہبی معاملہ نہیں ہے بلکہ لباس پہننے سے متعلق ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ ہر شخص پردہ کرتا ہے اور لباس کسی نہ کسی شکل میں پہنتا ہے۔ یہ حجاب ہی تو ہے۔ پردہ سب کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا ماحول ایسا ہے کہ اس کی روایت اور تہذیب میں ہی پردہ ہے۔ یہ کوئی مذہبی معاملہ نہیں، بلکہ لباس پہننا ہی حجاب ہے، پتہ نہیں اسے اتنی اہمیت کیوں دی جا رہی ہے۔

انہوں نے حجاب کو جسم کو ڈھانپنے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حجاب تمام خواتین اور لڑکیوں کے لیے ضروری ہے۔ جب میڈیا نے ان سے پوچھا کہ حجاب کتنا ضروری ہے تو انہوں نے نہایت سادگی سے جواب دیا کہ جس کے اندر جتنی شرم اور حیا ہوگی اتنا ہی پردہ ضروری ہوگا۔ شرم نہ ہو تو پردے کی ضرورت نہیں۔

ووٹ کا استعمال کرنے کے بعد انہوں نے ووٹ کو امن، امن اور بھائی چارے کے لیے ضروری قرار دیا اور ہر ایک سے اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کی اپیل بھی کی۔