موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ملکی مفاد میں اپنی تنگ نظری ترک کرے بی جے پی: مایاوتی

مایاوتی کا کسانوں کے بعد بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور نوجوانوں کی تعداد میں حالیہ اضافہ پر اظہار تشویش

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے کسانوں کے بعد بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور نوجوانوں کی تعداد میں حالیہ اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سامنے آنے کے باوجود بی جے پی کی ترقی اور شائننگ انڈیا کے دعوے کتنے صحیح ہیں اس پر غور کیا جانا چاہئے۔

مایاوتی نے بے روزگاری کی وجہ سے نوجوانوں کی خودکشی کے معاملے میں اضافے کو اجاگر کرنے والی ایک میڈیا رپورٹ کے حوالے سے اتوار کو اس معاملے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں اس مسئلے پر بحث کرانے سے بچ رہی حکومت کی تنقید بھی کی۔

انہوں نے ٹویٹ کر کے لکھا ’قرض میں ڈوبی گھٹن کی زندگی کو مجبور کسانوں کی خودکشی کی خبریں پریشان کن ہیں۔ لیکن اب بے روزگار نوجوانوں کے ذریعہ بھی خودکشی کرنے کی مجبوری نے قومی تشویش، بے چینی و اشتعال کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پھر بھی ترقی اور انڈیا شائننگ وغیرہ جیسا بی جے پی کا دعوی کتنا مناسب ہے۔

اترپردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی نے اس سلگتے مسئلے پر پارلیمنٹ میں بحث سے انکار کرنے کو بی جے پی کی مغرور سوچ کا نتیجہ قرار دیا۔

انہوں نے بی جے پی کو ملکی مفاد میں تنگ نظری کو ترک کرنے کی نصیحت دیتے ہوئے کہا ’بی جے پی کے ذریعہ پارلیمنٹ میں بھی بے روزگاری کے تازہ قومی مسئلے پر بحث سے انکار کرنا ان کی غلط و پرغرور سوچ نہیں ہے تو اور کیا ہے؟۔کون نوجوان بے روزگاری کا طعنہ و رسوائی برداشت کرنا چاہتا ہے؟۔ بی جے پی کے لوگ اپنی تنگ نظری کو ترک کریں تبھی ملک کا کچھ فائدہ ممکن ہے۔