موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

حامد کرزئی کی بائیڈن سے افغان فنڈ پر آرڈر واپس لینے کی اپیل

امریکہ نے تقریباً 7 ارب ڈالر کے افغان فنڈ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں سے آدھا افغانستان میں انسانی امداد کے لیے دیا جائے گا اور بقیہ فنڈز نائن الیون حملوں کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے استعمال کیے جائیں گے

کابل: سابق افغان صدر حامد کرزئی نے اتوار کے روز امریکی صدر جو بائیڈن پر زور دیا کہ وہ افغان فنڈ پر اپنا فیصلہ واپس لیں۔

 

طلوع نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مسٹر کرزئی نے دارالحکومت کابل میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز کا تعلق کسی حکومت سے نہیں، بلکہ افغان عوام سے ہے اور اسے افغانستان کے مرکزی بینک کو واپس کیا جانا چاہیے۔ مسٹر کرزئی کا یہ ردعمل مسٹر بائیڈن کی جانب سے افغانستان میں جاری بحران اور اقتصادی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جمعہ کو ایک حکم جاری کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ نے تقریباً 7 ارب ڈالر کے افغان فنڈ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس میں سے آدھا افغانستان میں انسانی امداد کے لیے دیا جائے گا اور بقیہ فنڈز 9/11 حملے کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

مسٹر کرزئی نے کہا کہ امریکہ کی طرح افغانستان کے لوگ بھی دہشت گردی کے شکار ہیں۔ افغان عوام کا پیسہ نائن الیون حملوں کے متاثرین کو نہیں دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کو افغانی نہیں بلکہ غیر ملکی لائے تھے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اسامہ پاکستان سے افغانستان آیا تھا اور واپس گیا اور وہیں مارا گیا تھا لیکن افغانستان کے عوام اس کے اعمال کی قیمت چکا رہے ہیں۔

مسٹر کرزئی نے یہ بھی کہا کہ اگر روکے گئے امریکی فنڈز جاری کیے جاتے ہیں تو طالبان کو اسے خرچ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ روزمرہ کے اخراجات کے لیے نہیں ہے بلکہ اسے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیا جانا چاہیے۔