موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کرناٹک ہائی کورٹ نے طالبات کے حجاب معاملے کو بڑی بینچ کے پاس بھیجا

کرناٹک ہائی کورٹ کا حجاب معاملہ میں حتمی فیصلہ سے انکار، معاملے کو بڑی بینچ کو سونپا

بنگلور: کرناٹک ہائی کورٹ نے بدھ کو طالبات کے حجاب پہن کر کالجوں میں جانے کی اجازت دینے کے معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ دینے سے انکار کردیا اور معاملے کو بڑی بینچ کے پاس بھیج دیا۔

جسٹس کرشنا دکشت کی سنگل بینچ نے کہا کہ بڑی بینچ اس معاملے میں عبوری راحت پر بھی غور کرے گی۔

جسٹس دکشت نے کہا کہ عدالت کا خیال ہے کہ سماعت میں جن اہم سوالات پر بحث ہو رہی ہے، ان سے متعلق کاغذات چیف جسٹس کے سامنے رکھے جائیں تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ کیا اس معاملے میں ایک بڑی بینچ کی تشکیل کی جاسکتی ہے۔

بینچ نے کہا کہ عبوری راحت پر بڑی بینچ غور کرے گی، جسے چیف جسٹس اپنی صواب دید سے تشکیل دیں گے۔

جسٹس دکشت نے ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے رجسٹری کو حکم دیا کہ عرضیوں میں عجلت کے پیش نظر دستاویزوں کو فوراً غور کرنے کے لیے چیف جسٹس کے سامنے رکھا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بڑی بینچ کی تشکیل کے سلسلے میں چیف جسٹس کے ذریعہ فیصلہ لیے جانے کے بعد عرضی گزار عبوری راحت مانگ سکتے ہیں۔

اس سے پہلے ریاستی پولیس نے اسکول، پی یو کالج، ڈگری کالج اور دیگر تعلیمی اداروں کے 200 میٹر کے دائرے میں کسی بھی مظاہرہ، احتجاج اور بھیڑ جمع ہونے پر پابندی لگادی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ ہائی کورٹ نے منگل کو تشدد کے معاملے سامنے آنے کے بعد لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کل شام سے تین دنوں تک ریاست کے سبھی اسکول اور کالج بند کرنے کا حکم دیا۔