موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

لکھیم پور کھیری واقعہ میں وزیر اجے مشرا کے استعفیٰ نہ دینے پر بی جے پی لیڈر ورون گاندھی نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو گھیرا

کسانوں کی تحریک کے بارے میں بات کرتے ہوئے ورون گاندھی نے کہا کہ اتر پردیش کے کسان ‘ووٹ کی چوٹ’ کے اپنے پروگرام کو مزید تیز کر سکتے ہیں، جس سے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو نقصان پہنچ سکتا ہے

لکھیم پور کھیری: لکھیم پور کھیری قتل کیس میں بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کا استعفیٰ ابھی تک نہیں ہوا ہے۔ ورون گاندھی نے اس پر کہا کہ مرکزی حکومت اجے مشرا کو تحفظ دے رہی ہے، آخر حکومت اس سے کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟ یہ سوال بی جے پی لیڈر اور ایم پی ورون گاندھی نے دینک بھاسکر کو دیے گئے انٹرویو میں اٹھایا ہے۔

کسانوں کی تحریک کے بارے میں بات کرتے ہوئے ورون گاندھی نے کہا کہ اتر پردیش کے کسان ‘ووٹ کی چوٹ’ کے اپنے پروگرام کو مزید تیز کر سکتے ہیں، جس سے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ سمجھنا چاہئے کہ کسانوں کی تحریک ابھی ملتوی ہوئی ہے، ختم نہیں۔

کسانوں کو ابھی تک حکومت کی طرف سے کئی مسائل پر جواب نہیں ملا

انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ’’جمہوریت میں ہر عوامی تحریک کی اپنی طاقت ہوتی ہے، اس کا اپنا اثر ہوتا ہے۔ جے پی تحریک سے لے کر انا کی تحریک تک ہر بار یہ ثابت ہوا ہے کہ عوامی تحریک میں حکومت بدلنے کی طاقت بھی ہے اور قیادت کا نیا افسانہ بنانے کی بھی طاقت ہے۔ کسانوں کو ابھی تک حکومت کی طرف سے کئی مسائل پر جواب نہیں ملا ہے۔

ان مسائل کو گنتے ہوئے انہوں نے ایم ایس پی پر قانونی ضمانت، لکھیم پور واقعہ میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کا استعفیٰ نہ دینے کا مسئلہ اٹھایا۔ گاندھی نے سوال اٹھایا کہ مرکزی حکومت انہیں تحفظ دے کر کیا ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے؟

معاوضہ اور کسانوں کے خلاف درج مقدمات کی واپسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ورون گاندھی نے کہا کہ ان کا مطالبہ ابھی بھی جاری ہے۔ اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے کسانوں کو دوبارہ نظر انداز کیا تو کسانوں کی تحریک دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔