موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اسمبلی انتخابات: دارا سنگھ کا ایس پی میں استقبال ہے: اکھلیش

اکھلیش نے اترپردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے یوگی کابینہ سے بدھ کو استعفی دینے والے دارا سنگھ کے ساتھ اپنی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ان کا ایس پی میں استقبال کیا۔

لکھنؤ: اترپردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے یوگی کابینہ سے بدھ کو استعفی دینے والے دارا سنگھ چوہان کے استعفی کے بعد سماج وادی پارٹی (ایس پی) صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ چوہان کا ایس پی میں استقبال ہے۔

 

حالانکہ دارا سنگھ نے وزارت سے استعفی دینے کے بعد واضح کیا ہے کہ فی الحال انہوں نے کسی پارٹی کی رکنیت حاصل نہیں کی ہے۔ جلد ہی وہ اپنے حامیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کر کے آگے کی حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کریں گے۔

اس درمیان اکھلیش نے دارا سنگھ کے ساتھ اپنی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ان کا ایس پی میں استقبال کیا۔ اکھلیش نے کہا ’سماجی انصاف کی جدوجہد کے جانباز سپاہی دارا سنگھ چوہان کا ایس پی میں دل کی گہرائیوں سے استقبال ہے۔ ایس پی و اس کے معاون پارٹیاں متحد ہوکر برابر۔مساوات کی تحریک کو انتہا تک لے جائیں گے‘۔ تفریق مٹائیں گے یہ ہمارا اجتماعی عزم ہے۔ سب کو احترام سب کو مقام‘۔

اس دوران یوپی کے نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ نے بھی دارا سنگھ کو اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی اور کہا ’کنبے کا کوئی رکن بھٹک جائے تو دکھ ہوتا ہے۔ جانے والے معزز کو میں بس یہی اپیل کرونگا کہ ڈوبتی ہوئی کشتی پر سوار ہونے سے نقصان ان کا ہی ہوگا۔ بڑے بھائی دارا سنگھ جی آپ اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرئیے‘۔

قابل ذکر ہے کہ منگل کو یوگی کابینہ سے استعفی کے سلسلے کا آغاز کرتے ہوئے وزیر لیبر سوامی پرساد موریہ نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ اس کے اگلے ہی دن دارا سنگھ نے بھی یوگی حکومت سے استعفی دے دیا۔