موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

یوپی میں ‘لڑکی ہوں لڑ سکتی ہوں’ کے نعرے سے جڑی لاکھوں لڑکیاں: پرینکا گاندھی 

پرینکا گاندھی نے ٹویٹ کیا، "سرکاری بسیں اور سرکاری مشینری کو استعمال کیے بغیر آج جھانسی میں 10,000 سے زیادہ لڑکیاں ‘لڑکی ہوں لڑ سکتی ہوں’ میراتھن میں دوڑ کے لیے نکلیں۔

نئی دہلی: کانگریس جنرل سکریٹری اور انچارج پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ اتر پردیش میں لاکھوں لڑکیاں ‘لڑکی ہوں لڑ سکتی ہوں’ کے نعرے میں شامل ہو رہی ہیں اور اب وہ ناانصافی کو برداشت نہیں کریں گی اور اپنے حقوق کے لیے لڑیں گی۔

انہوں نے اتوار کو کہا کہ جھانسی میں اس مہم کے تحت منعقد کی گئی میراتھن میں 10,000 سے زیادہ لڑکیوں نے حصہ لیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ریاست کی لڑکیاں اس نعرے میں شامل ہو رہی ہیں اور خود کو بااختیار محسوس کر رہی ہیں۔

مسز واڈرا نے ٹویٹ کیا، "سرکاری بسیں اور سرکاری مشینری کو استعمال کیے بغیر آج جھانسی میں 10,000 سے زیادہ لڑکیاں ‘لڑکی ہوں لڑ سکتی ہوں’ میراتھن میں دوڑ کے لیے نکلیں۔ آج ریاست کی ہر ایک لڑکی اس نعرے سے جڑی ہوئی محسوس کر رہی ہیں۔

انہوں نے لکھنؤ میں اس طرح کے پروگرام کی اجازت نہ دینے پر ریاستی حکومت پر تنقید کی اور کہا، "یوگی آدتیہ ناتھ جی لڑکیوں کی پرواز اور آواز کے اتنے خلاف ہیں کہ انہوں نے لکھنؤ میں میراتھن کی اجازت منسوخ کر دی۔ لیکن لڑکیاں برداشت نہیں کریں گی۔ لڑکیاں لڑیں گی۔”