موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اومیکرون پر مودی نے بلائی اعلی سطحی میٹنگ

اعلی درجہ کے ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ وزیراعظم کی یہ میٹنگ کرسمس اور نئے سال کے موقع پر ہونے والی تقاریب کے مدنظر اہم ہے کیونکہ ایسے موقع پر عوامی مقامات اور بازاروں میں بھی بھیڑ بڑھ جاتی ہے اور اومیکرون کے انفیکشن میں اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔

نئی دہلی: اومیکرون کے انفیکشن میں اضافہ کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کی شام ریاستوں کے وزرائے اعلی کے ساتھ ایک میٹنگ بلائی ہے۔ جس میں کووڈ انفیکشن کی تازہ صورتحال کا جائزہ اور ممکنہ حالات سے نپٹنے کے طور طریقوں پر غور و خوض کئے جانے کی امید ہے۔ اعلی درجہ کے ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ وزیراعظم کی یہ میٹنگ کرسمس اور نئے سال کے موقع پر ہونے والی تقاریب کے مدنظر اہم ہے کیونکہ ایسے موقع پر عوامی مقامات اور بازاروں میں بھی بھیڑ بڑھ جاتی ہے اور انفیکشن میں اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 16 ریاستوں میں اومیکرون کے 236 معاملے سامنے آ چکے ہیں اور ان میں ایک ہفتہ میں دو گنا سے زیادہ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ صحت اور خاندانی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر منسکھ مانڈویا نے کہا کہ ملک میں 60 فیصد سے زیادہ اہل آبادی کی کووڈ ٹیکہ کاری مکمل ہو چکی ہے۔ ملک میں ابھی تک 138 کروڑ سے زیادہ کووڈ ٹیکے لگائے گئے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق کووڈ کے نئے ویریئنٹ اومیکرون کا انفیکشن پرانے ڈیلٹا کے مقابلہ میں تین گنا زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں اگر غیر ممالک کی طرح اومیکرون کا انفیکشن پھیلا تو طبی سہولیات پر شدید دباؤ پڑے گا۔ ایک تحقیق کے مطابق ہندوستان میں اگر فرانس اور برطانیہ کی طرز پر انفیکشن پھیلتا ہے تو یومیہ پندرہ لاکھ تک لوگ متاثر ہوسکتے ہیں۔