موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اپوزیشن کا شدید ہنگامہ، راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی

اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی

نئی دہلی: اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے راجیہ سبھا کی کارروائی آج دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

صبح ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھنے کے بعد اپوزیشن پارٹی کے راجیہ سبھا کے اراکین نے ضابطہ 267 کے تحت دیے گئے نوٹس کے بارے میں جاننا چاہا۔ سب سے پہلے کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے یہ معاملہ اٹھایا۔ اسی دوران کئی اراکین ایک ساتھ کھڑے ہو گئے اور اونچی آواز میں بولنا شروع کر دیا۔ اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے بھی کھڑے ہو گئے اور کچھ کہنا چاہا۔

چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ضابطہ 267 کے تحت دی گئی نوٹس کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ پہلے ایوان کی کارروائی چلنی چاہیے۔ ایوان کو چلانا ان کی ترجیح اور ذمہ داری ہے۔

مسٹر نائیڈو نے کہا کہ جمعہ کو انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کے رہنماؤں کی میٹنگ کے بارے میں کہا تھا تاکہ ایوان کی کارروائی صحیح طریقے سے چل سکے۔ ارکان گزشتہ کئی دنوں سے اپوزیشن پارٹیوں کے 12 اراکین کی معطلی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کر رہے تھے۔

اس دوران اپوزیشن کے کچھ اراکین نے اپنے مطالبات کے پلے کارڈ دکھائے۔ چیئرمین نے اراکین سے درخواست کی کہ وہ ایسا نہ کریں اور ان سے کہا کہ وہ نظم و ضبط اور شائستگی کو برقرار رکھیں۔ بعد ازاں انہوں نے ایوان کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کر دی۔