موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

رام جنم بھومی ٹرسٹ کی تشکیل پر اکھاڑا پریشد کے صدر نے اٹھائے سوال

اکھاڑا پریشد کے صدر نے رام جنم بھومی ٹرسٹ کی تشکیل پر سوال کھڑا کرتے ہوئے تینوں اکھاڑوں کا مستقل نمائندگی دینے کی پرزور آواز اٹھائی ہے۔

اجودھیا: اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت روندر پری نے ’شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ‘ کی تشکیل پر سوال کھڑا کرتے ہوئے تینوں اکھاڑوں کا مستقل نمائندگی دینے کی پرزور آواز اٹھائی ہے۔

پری نے ہفتہ کو اجودھیا میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر رام مندر کے لئے جس ٹرسٹ کی تشکیل کی گئی اس میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کا رام مندر تحریک سے کبھی کوئی واسطہ نہیں رہا ہے۔ اس لئے ٹرسٹ میں تینوں اکھاڑوں کی بھی مستقل نمائندگی ہونی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے لئے اکھاڑا پریشد جلد ہی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کرے گا۔

متھرا میں کرشن جنم بھومی کے سلسلے میں چل رہے تنازع کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’ہمیں توقع ہے کہ جس طرح رام مندر کے معاملے میں آئینی فیصلہ ہوا ہے اسی طرح متھرا معاملے میں فیصلہ ہوگا‘۔ اور پھر ’اجودھیا کی طرح متھرا میں بھی شاندار انعقادات ہونگے‘۔

پری نے مزید کہا کہ ’جب بھی ملک میں مخالف حالات پیدا ہوئے ہیں تو سادھو۔سنتوں نے اپنے ’شاستروں‘ کے ذریعہ پہلے سمجھانے کی کوشش کی اور ضرورت پڑی تو اسلحے اٹھانے سے بھی گریز نہیں کیا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’رام مندر کی تعمیر کا جو کام جاری ہے اس کے لئے بھی ہمارے بزرگوں نے450 سال تک جدوجہد کی ہے‘۔