موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

متنازعہ زرعی قوانین کی منسوخی سے متعلق بل پہلے ہی دن لوک سبھا میں لانے کا فیصلہ

حکومت پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن لوک سبھا میں متنازعہ زرعی قوانین کی منسوخی سے متعلق بل پیش کرے گی۔

نئی دہلی: حکومت پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن لوک سبھا میں زراعت کے تینوں متنازع قوانین کو منسوخ کرنے کا بل پیش کرے گی۔

پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس پیر سے شروع ہو رہا ہے اور زرعی قانون کی منسوخی بل 2021 لوک سبھا کے پہلے دن کے ایجنڈے میں درج ہے۔

خیال رہے وزیر اعظم نریندر مودی نے 29 نومبر کو ہی ان بلوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد گزشتہ بدھ کو مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں زرعی قوانین کی منسوخی سے متعلق اس بل کو منظوری دی گئی۔

اطلاعات و نشریات کے وزیر انوراگ ٹھاکر نے اس وقت کہا تھا کہ حکومت سرمائی اجلاس کے پہلے ہفتے میں ہی ترجیحی بنیادوں پر متنازع زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کرے گی۔

اس کے پیش نظر کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے وہپ جاری کرتے ہوئے اپنے اپنے اراکین کو پہلے دن ایوان میں موجود رہنے کو کہا ہے۔

تینوں نئے زرعی قوانین گزشتہ سال ستمبر میں منظور کیے گئے تھے لیکن کسانوں کی کئی تنظیموں نے ان قوانین کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے گزشتہ سال 26 نومبر سے ان کے خلاف احتجاج اور دھرنا شروع کر دیا تھا۔ کسانوں کی تنظیمیں اس وقت سے ان قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔