موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کروز ڈرگ کیس کے بعد سمیر وانکھیڑے کی ازدواجی پریشانیاں بڑھیں

سمیر وانکھیڑے کی مشکلات کم ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔ ان کی پہلی شادی کروانے والے قاضی اور مذہبی رہنما نے کہا ہے کہ نکاح کے وقت وانکھیڑے اور ان کے والد داؤد عرف دنیشور وانکھیڑے تھے اور ڈاکٹر شبانہ قریشی مسلمان تھیں۔

ممبئی: نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کے ریجنل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڑے کی مشکلات کم ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔ ان کی پہلی شادی کروانے والے قاضی اور مذہبی رہنما نے کہا ہے کہ نکاح کے وقت وانکھیڑے اور ان کے والد داؤد عرف دنیشور وانکھیڑے تھے اور ڈاکٹر شبانہ قریشی مسلمان تھیں۔ جبکہ سمیر وانکھیڑے اور ان کے خاندان کے افراد نے مسلمان ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ سے ’ہندو‘ تھے۔ بدھ کے روز ایک نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے قاضی نے کہا کہ لڑکی کے والد نے مجھ سے شادی کے لیے رابطہ کیا تھا کیونکہ دونوں فریق مسلمان تھے اس لیے نکاح ہو سکا ورنہ نکاح نہیں ہو سکتا تھا۔

غور طلب ہے کہ سمیر وانکھیڑے پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے ترجمان نواب ملک نے بھی ایسے ہی الزامات لگائے ہیں کہ سمیر ہندو نہیں بلکہ مسلمان ہیں۔ لیکن سمیر کئی بار واضح کر چکے ہیں کہ ان کی ماں مسلم فرقے سے تھیں اور والد ہندو تھے اور اسی لیے ان کا جھکاؤ دونوں طرف رہا ہے۔ مگر اب یہ معاملہ آرین ڈرگ کیس سے الگ ہو کر ذاتی خاندانی الزامات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور نواب ملک کبھی ان کی ذات کے بارے میں بیان دینے سے باز نہیں آ رہے ہیں تو کبھی کہہ رہے ہیں کہ سمیر جبراً وصولی کیا کرتے تھے۔