موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

بی ایس ایف سرحد پر پنجاب، آسام اور بنگال میں 50 کلو میٹر اندر تک کرسکے گی گرفتاری

مرکزی وزارت داخلہ نے بی ایس ایف کے پنجاب، آسام اور مغربی بنگال میں دائرہ اختیار کو سرحد کے اندر 50 کلو میٹر تک بڑھانے اور اسے پولیس کی طرز پر ضبطی، تلاشی اور گرفتاری کا حق دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

نئی دہلی: مرکزی وزارت داخلہ نے سرحدی علاقوں میں مختلف جرائم پر لگام لگانے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے پنجاب، آسام اور مغربی بنگال میں دائرہ اختیار کو سرحد کے اندر 50 کلو میٹر تک بڑھانے اور اسے پولیس کی طرز پر ضبطی، تلاشی اور گرفتاری کا حق دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت داخلہ نے پیر کو ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے کہا کہ بارڈر سیکیورٹی فورس اب مجرمانہ پینل کوڈ اور پاسپورٹ ایکٹ کی دفعات کے تحت آسام، مغربی بنگال اور پنجاب میں سرحد سے ملک کے اندر 50 کلو میٹر تک یہ کارروائی کرسکے گی۔ پہلے اسے سرحد سے ملک کے اندر 15 کلو میٹر تک یہ کارروائی کرنے کا حق تھا۔

اگرچہ گجرات میں اس کے اختیار کا دائرہ 80 کلو میٹر سے کم کرکے 50 کلو میٹر کیا گیا ہے۔ جبکہ راجستھان میں کسی طرح کی تبدیلی نہ کرتے ہوئے اسے 50 کلو میٹر ہی رکھا گیا ہے۔

ناگا لینڈ، میزورم، تریپورہ، منی پور اور لداخ میں بھی بی ایس ایف کو یہ حق حاصل ہے۔ اگرچہ ان علاقوں اور جموں کشمیر و لداخ میں بی ایس ایف کے اختیار کا دائرہ طے نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے لئے وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کرکے بارڈر سیکیورٹی فورس ایکٹ 1968 میں ترمیم کی ہے۔