موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اگر امریکہ نے افغانستان کی فضائی حدود میں ڈرون حملے بند نہ کیے تو سنگین نتائج ہوں گے: طالبان

امریکہ نے افغان فضائی حدود میں ڈرون حملے کرکے امارت اسلامیہ (طالبان) کے تمام بین الاقوامی حقوق، قوانین اور قطر کی راجدھانی دوحہ میں اس کے ساتھ کئے گئے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

کابل: طالبان نے بدھ کو امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے افغان فضائی حدود میں ڈرون حملے بند نہ کیے تو اس کے ’شدید منفی نتائج‘ ہوں گے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ”اسلامی امارات افغانستان‘ افغانستان کی واحد قانونی اکائی کے طور پر یہاں کی زمین اور فضائی حدود کا نگہبان ہے۔ ہم نے حال ہی میں دیکھا ہے کہ امریکہ نے افغانستان کے مقدس فضائی حدود پر اپنے ڈرون جہازوں سے حملہ کرکے امارت اسلامیہ (طالبان) کے تمام بین الاقوامی حقوق، قوانین اور قطر کی راجدھانی دوحہ میں اس کے ساتھ کئے گئے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان خلاف ورزیوں پر روک لگائی جانی چاہئے۔‘‘

مسٹر مجاہد نے بتایا کہ "ہم تمام ممالک بالخصوص امریکہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی حقوق، قوانین اور وعدوں کی روشنی میں اور کسی بھی منفی نتائج سے بچنے کے لیے باہمی احترام اور عزم کے ساتھ عمل کریں۔”

امریکہ نے افغانستان میں دو ڈرون حملے اسلامک اسٹیٹ خراسان دہشت گرد تنظیم کو نشانہ بناکر کئے گئے تھے۔ جو 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ پر مہلک خودکش حملے کا ذمہ دار تھا جس میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دریں اثنا 29 اگست کو ایک امریکی ڈرون حملے میں 7 بچوں سمیت 10 عام شہری ہلاک ہوئے جس نے پورے ملک میں غم و غصے کو جنم دیا۔ امریکی فوج نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے افسوسناک غلطی قرار دیا تھا۔